کالج کی وہ صبح باقی دنوں جیسی ہی تھی، مگر پتہ نہیں کیوں میرا دل بار بار آخری صف کی طرف جا رہا تھا۔ ہر کلاس میں، ہر لیکچر میں، نظریں خود بخود پیچھے مُڑ جاتی تھیں۔ وہاں ایک لڑکا بیٹھا کرتا تھا۔ دبلا سا، خاموش، جیسے اپنی ہی دنیا میں گم۔ نہ کسی سے بات، نہ کوئی دوستی، نہ کوئی ہلچل۔ صرف بند فائل، خاموش آنکھیں، اور کندھوں پر نہ دکھنے والا کوئی بوجھ۔

استاد سوال پوچھتے، سب ہاتھ اٹھاتے—مگر وہ نہیں۔
کلاس ہنستی، شور مچاتی—مگر وہ نہیں۔
لنچ ٹائم میں سب گروپوں کی صورت بیٹھتے—مگر وہ ہمیشہ ایک کونے میں، روٹی کے چھوٹے چھوٹے نوالے توڑتا، جیسے وقت سے بھی چھوٹا ہو گیا ہو۔

میں نے ایک دن سوچ لیا کہ جا کر پوچھوں گا، "یار! سب ٹھیک ہے؟"
لیکن ہر بار دل نے کہا—"کیا پتا وہ برا مان جائے؟ کیا پتا وہ اکیلا رہنا چاہتا ہو؟"
اور یوں دن گزرتے گئے۔

ایک دن اچانک وہ کلاس میں نہیں آیا۔
پہلا دن… دوسرا دن… تیسرا…
اور عجیب سی کمی محسوس ہونے لگی۔ جیسے پیچھے والی خاموشی بھی خالی ہو گئی ہو۔

چوتھے دن وہ آیا… مگر بدلا ہوا۔
آنکھیں سوجی ہوئی، قدم لڑکھڑاتے ہوئے، جیسے رات بھر سویا نہ ہو۔

اسی دن کلاس کے بعد وہ خود میرے پاس آیا۔ پہلی بار۔
آہستہ سے بولا:
“تم لوگ شاید نہیں جانتے کہ کچھ لوگ آخری صف میں بیٹھنے کا انتخاب نہیں کرتے… انہیں بیٹھا دیا جاتا ہے۔ زندگی… حالات… گھر… غربت… سب انہیں پیچھے دھکیل دیتے ہیں۔”

اس کا لہجہ کپکپا رہا تھا۔
میں خاموش تھا۔
وہ آگے بولا:

“مجھے ہمیشہ لگا کہ میں کسی کے قابل نہیں۔ لوگوں کے بیچ بیٹھوں تو لگتا ہے میں ان کی جگہ گھیر رہا ہوں۔ لہٰذا میں پیچھے چلا جاتا ہوں… تاکہ کسی کے راستے میں نہ آؤں۔”

میں نے پہلی بار اس کے چہرے پر وہ بوجھ دیکھا جسے وہ دنوں سے، شاید سالوں سے اٹھائے گھوم رہا تھا۔

اچانک اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔
وہ کہنے لگا:
“کل رات ابو ہسپتال میں تھے… نہ پیسے ہیں، نہ کوئی آس۔ ایسا لگا کہ شاید میں بھی ایک ناکامی ہوں۔ اس لیے کلاس نہیں آیا۔ بس گھر میں بیٹھا سوچتا رہا… آخر میں ہوں کیوں؟”

میں نے فوراً اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
اور اس لمحے مجھے احساس ہوا کہ ایک انسان کو تھامنے کے لیے کبھی بڑے الفاظ نہیں چاہئیں… صرف ایک ہاتھ، ایک جملہ، ایک موجودگی کافی ہوتی ہے۔

میں نے اسے کہا:
“سنو… آخری صف میں بیٹھے لوگ اکثر کمزور نہیں ہوتے۔ وہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو زندگی سے تھکے ہوئے بھی ہوں، ٹوٹے ہوئے بھی ہوں، مگر پھر بھی کلاس میں آتے ہیں۔ یہ ہمت ہے… ناکامی نہیں۔ تم پیچھے نہیں ہو، تم بس دُکھ میں ہو۔ اور دُکھ عارضی ہوتا ہے۔”

یہ سن کر وہ خاموش ہو گیا… مگر خاموشی کسی بوجھ کی نہیں، کسی راحت کی تھی۔

اس دن کے بعد وہ آہستہ آہستہ درمیان والی صفوں میں آنے لگا۔
چہرے پر پہلے اتنی روشنی نہیں تھی، مگر ایک نئی کوشش ضرور تھی۔
اور ایک دن… وہ پہلی صف میں بیٹھا۔

استاد نے اس سے سوال پوچھا، اور حیرت یہ کہ اس نے جواب بھی دیا۔
لڑکھڑاتے لہجے میں، مگر اعتماد کی پہلی اینٹ یہی ہوتی ہے۔

جب کلاس ختم ہوئی تو وہ مسکرا رہا تھا۔
میں نے پوچھا:
“کیا ہوا؟”

وہ بولا:
“آج لگا… کہ شاید میں بھی قابل ہوں۔”

اور اس دن مجھے بھی ایک سبق ملا—
دنیا میں کوئی بھی شخص فالتو نہیں ہوتا۔
کچھ لوگ بس تھکے ہوئے ہوتے ہیں۔
کچھ دبے ہوئے۔
کچھ ٹوٹے ہوئے۔
اور کچھ… صرف ایک انسان کا ہاتھ پکڑنے کے انتظار میں۔

اگر کبھی آپ کو آخری صف میں بیٹھا کوئی لڑکا، کوئی لڑکی، کوئی آدمی یا کوئی عورت نظر آئے…
تو یاد رکھیں—
وہ پیچھے بیٹھنے والے نہیں ہوتے…
وہ بس کسی کے آگے بڑھانے کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔

Previous Post Next Post

Gallery

انٹرنیشنل خبریں