ذرا آنکھیں بند کریں… ایک لمحے کے لیے…
اور اپنی سانس کو محسوس کریں۔
یوں جیسے کہیں دور سے کوئی مدھم سی بانسری بج رہی ہو…
اور اس کی آواز… سیدھی دل کے اندر اتر رہی ہو۔
بات آج ایک ایسے راز کی ہے…
جو ہر انسان کی زندگی بدل سکتا ہے…
اگر وہ اس راز کو سمجھ لے۔
رومی کہتے ہیں:
“تو خود را بیچو… خود را بیاب”
اپنے آپ کو بیچ دو… تاکہ خود کو پا سکو۔
اب یہ بات سننے میں عجیب لگتی ہے نا؟
کہ بھلا انسان خود کو بیچ کیسے سکتا ہے؟
اور خود کو پانے کا کیا مطلب ہے؟
لیکن اصل میں…
یہ جملہ انسان کی پوری زندگی کا خلاصہ ہے۔
دیکھیں…
ہم سب اپنے اندر دو وجود لے کر چلتے ہیں۔
ایک ہے سچا وجود… وہ جسے اللہ نے نور سے بنایا۔
اور دوسرا ہے جھوٹا وجود… جو ہم نے دنیا کی تعریف، تعریف کے نشے، لالچ اور خوف سے بنایا ہے۔
وہ جھوٹا وجود…
وہی ہے جو ہر وقت تھک جاتا ہے، ڈر جاتا ہے، روٹھ جاتا ہے، مقابلے کرتا پھرتا ہے…
اور سچا وجود؟
وہ خاموش ہے… گہرا ہے…
اور ہمیشہ سے زندہ ہے۔
رومی کہتے ہیں:
اگر تم زندگی میں سکون چاہتے ہو…
اگر تم حقیقت چاہتے ہو…
اگر تم چاہتے ہو کہ دل کا شور بند ہو جائے…
تو سب سے پہلے اس جھوٹے وجود کو بیچ دو۔
یعنی…
اپنی ضدیں…
اپنی انا…
اپنی چھوٹی چھوٹی برتریاں…
اپنے وہ تمام خود ساختہ چہرے…
جنہیں بچانے کے لیے ہم روز مرتے رہتے ہیں۔
ذرا سوچیں…
کتنی بار… ہم نے لوگوں کے ڈر سے اپنے اندر کے سچ کو مارا؟
کتنی بار… تعریف کے لالچ میں وہ کام کیا جو دل نہیں مانتا تھا؟
کتنی بار… صرف اس لیے چپ رہے کہ دوسرے ناراض نہ ہو جائیں؟
اور کتنی بار… اپنے آپ سے بھاگتے رہے…
صرف اس لیے کہ کہیں ہمارا اصل چہرہ سامنے نہ آ جائے؟
رومی کہتے ہیں…
یہی وہ سودا ہے جو انسان کو تباہ کرتا ہے۔
اصل میں نقصان تب ہوتا ہے…
جب انسان اپنی حقیقت کھو دیتا ہے۔
اب جب رومی کہتے ہیں کہ "خود کو بیچ دو"…
تو اس سے مراد یہ ہے کہ اپنے جھوٹے "میں" کو چھوڑ دو۔
جیسے اگر کوئی شخص بازار جائے…
تو وہ ایسی چیز بیچتا ہے جو اس کے لیے بیکار ہو گئی ہو۔
کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ بدلے میں کچھ بہتر ملے۔
تو رومی کہتے ہیں…
اپنی انا بیچ دو… تاکہ تمہیں دل کی وسعت مل جائے۔
اپنے خوف بیچ دو… تاکہ تمہیں یقین مل جائے۔
اپنے غصے بیچ دو… تاکہ تمہیں محبت مل جائے۔
اپنی بےقراری بیچ دو… تاکہ تمہیں سکون مل جائے۔
کیونکہ…
جب تک ہاتھ پر پرانا سامان پڑا ہے…
نیا تحفہ نہیں رکھا جا سکتا۔
اسی طرح…
جب تک دل پر پرانی انا اور پرانی ضدیں پڑی ہیں…
اللہ کی روشنی کیسے اترے؟
اب یہاں ایک اور راز ہے…
انسان کا اصل سفر… باہر نہیں ہوتا۔
کوئی پہاڑ نہیں چڑھنا…
کوئی جنگل نہیں جانا…
کوئی دنیا چھوڑنی نہیں ہوتی۔
اصل سفر…
اپنے اندر اترنے کا ہے۔
اور جب انسان اپنے اندر اترتا ہے…
تو اسے کئی دروازے ملتے ہیں۔
کبھی درد کا دروازہ…
کبھی خوشی کا…
کبھی خوف کا…
کبھی امید کا…
لیکن ایک دروازہ…
سب سے زیادہ قیمتی ہے۔
اور وہ ہے
"خود شناسی کا دروازہ"۔
یہ وہ دروازہ ہے…
جسے کھولنے کے بعد انسان دوسروں کی آنکھوں میں نہیں دیکھتا…
اپنے دل کی آنکھ میں دیکھنے لگتا ہے۔
پھر ایک عجیب بات ہوتی ہے…
انسان سمجھنے لگتا ہے کہ دنیا میں کوئی دشمن نہیں…
اصل دشمن تو وہ جھوٹا "میں" تھا جو ہم نے خود بنایا تھا۔
رومی کہتے ہیں:
“جو چیز تم ڈھونڈ رہے ہو… وہ تمہیں ڈھونڈ رہی ہے”۔
لیکن جب دل پر جھوٹے پردے پڑے ہوں…
تو انسان اپنے رب کی آواز بھی نہیں سن پاتا۔
اب آپ سوچیں…
اگر کوئی گھر کے اندر شور لگا دے…
تو باہر سے آنے والی ہلکی سی دستک کیسے سنی جائے؟
دل کا معاملہ بھی ایسا ہے۔
جب تک دل میں شور ہے…
یعنی انا، حسد، مقابلہ، لالچ…
تب تک اللہ کی دستک سنائی نہیں دیتی۔
یہی وجہ ہے کہ رومی کہتے ہیں:
"اپنے اندر وہ سب کچھ بیچ دو جو اصل نہیں ہے…
پھر دیکھو… تمہاری حقیقت کیا بن جاتی ہے"۔
جب انسان جھوٹا وجود بیچ دیتا ہے…
تو اس کے اندر ایک خاموشی پیدا ہوتی ہے۔
ایک سکون… جو الفاظ سے باہر ہے۔
ایک حال… جو سمجھ میں تو آتا ہے…
مگر بیان نہیں ہوتا۔
پھر انسان دوسروں کو بھی نئی نظر سے دیکھنے لگتا ہے۔
پھر کوئی دشمن نہیں رہتا…
کوئی مقابلہ نہیں رہتا…
بس ایک سفر رہ جاتا ہے…
اپنے رب کی طرف۔
اور یہ سفر…
جتنی خاموشی میں ہوتا ہے…
اتنا ہی گہرا ہوتا ہے۔
آپ کبھی اپنے اندر جھانک کر دیکھیں…
کیا واقعی وہ سب کچھ جو ہم روز اٹھائے پھرتے ہیں…
ضروری ہے؟
کیا وہ لوگوں کی رائے…
اس قدر قیمتی ہے کہ ہم اپنے دل کی آواز کو دبا دیں؟
کیا وہ چند لمحوں کی انا…
ہماری پوری زندگی سے زیادہ اہم ہے؟
اگر نہیں…
تو پھر رومی کی بات مانیں…
"تو خود را بیچو… خود را بیاب"
اپنے آپ کو بیچ دو…
تاکہ اپنے آپ کو پا سکو۔
اور جب انسان خود کو پا لیتا ہے…
تو پھر وہ دنیا سے نہیں لڑتا…
اپنے اندر کے اندھیروں سے لڑتا ہے۔
پھر وہ دوسروں کو بدلنے نہیں نکلتا…
خود کو بدلنے کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے…
جہاں انسان کا اصل سفر شروع ہوتا ہے۔
آخر میں…
بس اتنا یاد رکھیں…
اللہ اپنے بندے کے بالکل قریب ہے…
بس ہم اپنے دل کے اندر بہت شور ڈال دیتے ہیں۔
جیسے ہی شور کم ہوتا ہے…
وہیں سے نور شروع ہو جاتا ہے۔
تو آج سے…
اپنے اندر دیکھیں…
کیا بیچنے کا وقت آ گیا ہے؟
اگر آ گیا ہے…
تو ایک قدم اٹھائیں۔
ایک ضد چھوڑ دیں…
ایک تکبر گرا دیں…
ایک خوف مٹا دیں…
اور پھر دیکھیں…
آپ کہاں پہنچتے ہیں۔
شاید…
آپ کو وہی ملنے لگے…
جسے آپ ساری زندگی ڈھونڈتے رہے۔
