برونائی دارالسلام
دنیا کے نقشے پر کئی ایسے ممالک موجود ہیں جو رقبے میں بہت چھوٹے ہونے کے باوجود اپنی غیر معمولی ثروت اور اثر و رسوخ کی بدولت بڑے بڑے ممالک کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ انہی میں سے ایک "برونائی دارالسلام" ہے—جزیرہ بورنیو پر واقع ایک ایسی خود مختار سلطنت جو اپنی بے پناہ دولت، شاہانہ جاہ و جلال اور قدیم روایات کے سحر انگیز امتزاج کی بدولت عالمی مبصرین کے لیے ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ "امن کا گہوارہ" (Abode of Peace) کہلانے والی یہ ریاست نہ صرف جغرافیائی لحاظ سے منفرد ہے بلکہ اس کا سیاسی و سماجی ڈھانچہ بھی عصرِ حاضر کے دیگر ممالک سے یکسر مختلف ہے۔
1. ایک ملک، دو حصے: جغرافیائی انفرادیت
برونائی دارالسلام کی جغرافیائی حیثیت ماہرینِ ارضیات کے لیے کسی حیرت سے کم نہیں ہے۔ یہ جنوبی بحیرہ چین کے ساحل پر واقع جزیرہ بورنیو کی واحد مکمل خود مختار ریاست ہے۔ اس ملک کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ زمینی طور پر دو حصوں میں منقسم ہے، جنہیں ملائیشیا کی ریاست سراواک کا ضلع 'لمبانگ' ایک دوسرے سے جدا کرتا ہے۔
اس سلطنت کا تقریباً 72 فیصد حصہ آج بھی گھنے اور تروتازہ بارانی جنگلات (Rainforests) پر مشتمل ہے، جو ماحولیاتی تنوع کے تحفظ کے حوالے سے اس کے پختہ عزم کا ثبوت ہے۔ یہ جغرافیائی تنہائی اور قدرتی حسن برونائی کو ایک ایسی منفرد منزل بناتا ہے جہاں جدیدیت اور فطرت ساتھ ساتھ سانس لیتے ہیں۔
2. ٹیکس سے پاک زندگی اور بے مثال عمرانی معاہدہ
برونائی کے معاشی استحکام کا اصل ستون اس کے زیرِ زمین چھپے پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے زرخیز ذخائر ہیں۔ قوتِ خرید (PPP) کے لحاظ سے برونائی دنیا کا ساتواں امیر ترین ملک ہے۔ تاہم، یہاں کی معیشت کا سب سے متاثر کن پہلو وہ "سماجی تحفظ" ہے جو 'ہاؤس آف بولکيا' نے اپنے شہریوں کو فراہم کر رکھا ہے۔
تجزیہ کار اسے ایک ایسا "عمرانی معاہدہ" (Social Contract) قرار دیتے ہیں جہاں شہری سیاسی سرگرمیوں میں عدم مداخلت کے بدلے میں بے مثال معاشی تحفظ حاصل کرتے ہیں۔ شہریوں کو حاصل چند کلیدی مراعات درج ذیل ہیں:
- ذاتی انکم ٹیکس سے مکمل استثنیٰ: برونائی کے شہریوں کو اپنی آمدنی پر کوئی ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑتا۔
- مفت صحت و تعلیم: ابتدائی اسکول سے لے کر یونیورسٹی تک تعلیم اور تمام جدید طبی سہولیات ریاست کی جانب سے بالکل مفت فراہم کی جاتی ہیں۔
- سبسڈی والی رہائش: حکومت شہریوں کو یا تو مفت گھر فراہم کرتی ہے یا پھر رہائشی منصوبوں پر بھاری سبسڈی دی جاتی ہے۔
- اشیاءِ ضروریہ پر رعایت: چاول اور چینی جیسی بنیادی اشیاء پر حکومت کی طرف سے قیمتوں میں نمایاں کمی کی جاتی ہے۔
3. جب برونائی نے عالمی طاقتوں کا مقابلہ کیا
برونائی کی تاریخ محض دولت تک محدود نہیں بلکہ یہ استقامت اور فوجی طاقت کی داستانوں سے عبارت ہے۔ ایک دور میں سلطنتِ برونائی کا دائرہ اختیار پورے بورنیو، سراواک، صباح اور فلپائن کے 'سولو آرکیپیلاگو' (Sulu Archipelago) تک پھیلا ہوا تھا۔ 1578 میں ہونے والی 'کاسٹیلین جنگ' اس کی عسکری تاریخ کا ایک اہم باب ہے جب اس نے اسپین کی عالمی طاقت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ برونائی پر حملہ کرنے والے ہسپانوی بحری بیڑے میں میکسیکو اور فلپائن سے تعلق رکھنے والے ایزٹیکس (Aztecs)، مایا (Mayans) اور انکا (Incans) سپاہی بھی شامل تھے۔ برونائی کی قدیم خوشحالی اور نظامِ عدل کی گواہی 1550 میں اطالوی سیاح لڈوویکو ڈی ورتھما (Ludovico di Varthema) نے ان الفاظ میں دی تھی:
"ہم جزیرہ بورنیو پہنچے... یہاں کے لوگ نیک نیت ہیں... اس جزیرے میں انصاف بہت اچھے طریقے سے نافذ ہے۔"
4. گاڑیوں کا شہر: پبلک ٹرانسپورٹ کے بغیر ایک طرزِ زندگی
برونائی میں نجی گاڑیوں کی ملکیت کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے، جہاں ہر 2.09 افراد کے لیے اوسطاً ایک کار موجود ہے۔ اس "کار کلچر" کے پیچھے محض دولت نہیں بلکہ ٹھوس معاشی عوامل کارفرما ہیں:
- سستا ایندھن: پیٹرول کی قیمت یہاں محض 0.53 برونائی ڈالر فی لیٹر ہے، جو اسے دنیا کے سستے ترین ممالک میں شامل کرتی ہے۔
- ٹیکسوں میں رعایت: گاڑیوں کی درآمد پر ڈیوٹی کی شرح انتہائی کم ہے۔
- انفراسٹرکچر: جامع پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کی عدم موجودگی اور سستے ایندھن نے برونائی کے شہریوں کو نجی گاڑیوں پر انحصار کرنے کا عادی بنا دیا ہے، جو اب وہاں کی سماجی حیثیت کی علامت بھی بن چکا ہے۔
5. قانون اور روایت کا سنگم: 2019 کی اہم اصلاحات
برونائی کا قانونی نظام انگلش کامن لاء اور اسلامی شریعت کا ایک پیچیدہ امتزاج ہے۔ 2013 میں شریعت پر مبنی تعزیراتی ضابطے کے اعلان نے عالمی سطح پر کافی توجہ حاصل کی۔ تاہم، ایک ماہرِ عالمی امور کے طور پر یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ 2019 میں سلطان نے بین الاقوامی دباؤ اور سفارتی مصلحتوں کے پیشِ نظر سزائے موت پر عملدرآمد کو روکنے (Moratorium) کا اعلان کیا۔ مزید برآں، شریعت کے دوسرے اور تیسرے مرحلے (جیسے سنگساری یا اعضاء کاٹنا) کے نفاذ کو فی الحال عملی شکل نہیں دی گئی ہے۔
قانون کی حکمرانی صرف انسانوں تک محدود نہیں ہے۔ برونائی ایشیا کا وہ پہلا ملک ہے جس نے 'شارک فننگ' (Shark Finning) پر ملک گیر پابندی لگائی اور یہ نایاب جانور 'پینگولنز' (Pangolins) کی حفاظت کے لیے بھی عالمی سطح پر کوشاں ہے۔
6. اختتام: بدلتی دنیا اور "امن کے گہوارے" کا مستقبل
برونائی دارالسلام نے دہائیوں سے روایت، مذہب اور معاشی خوشحالی کے درمیان ایک نازک توازن برقرار رکھا ہوا ہے۔ پیٹرولیم کی دولت نے اس ریاست کو ایک ایسی جنت میں بدل دیا ہے جہاں شہریوں کو کسی معاشی فکر کا سامنا نہیں۔ لیکن جیسے جیسے دنیا رکازی ایندھن (Fossil Fuels) سے دور ہو رہی ہے، برونائی کے لیے اپنی معاشی بنیادوں کو متنوع بنانا ایک ناگزیر ضرورت بن گیا ہے۔
آنے والے وقت میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ "امن کا گہوارہ" کہلانے والی یہ سلطنت اپنی انفرادیت برقرار رکھتے ہوئے جدید معاشی چیلنجز کا مقابلہ کیسے کرے گی؟ کیا ایک ایسی فلاحی ریاست کا ماڈل، جہاں تمام سہولیات مفت ہوں اور ٹیکس کا وجود نہ ہو، مابعد پیٹرولیم (Post-Petroleum) عہد میں استدامت برقرار رکھ سکے گا؟ یہ وہ سوال ہے جو نہ صرف برونائی بلکہ دنیا کے تمام وسائل سے مالا مال ممالک کے لیے فکر کا باعث ہے۔
