فیض احمد فیض کی زندگی کے 6 حیران کن حقائق جو آپ کو

دنگ کر دیں گے


1. تعارف
اردو ادب کے افق پر فیض احمد فیض ایک ایسا درخشندہ ستارہ ہیں جس کی تابانی نے نہ صرف مشرق بلکہ مغرب کو بھی اپنی گرفت میں لیے رکھا۔ وہ ایک ایسی کرشماتی شخصیت تھے جن کے لہجے کی تھپکی نے انقلاب کی تپش کو ایک لوری بنا دیا اور جن کی خاموشی میں بھی ایک جہانِ معنی آباد تھا۔ ہم فیض کو ایک کٹر اشتراکی اور مزاحمتی شاعر کے طور پر تو جانتے ہیں، لیکن ان کی زندگی تضادات کا ایک ایسا دلکش سنگم تھی جہاں ایک فوجی افسر، ایک انتہا درجے کا شرمیلا انسان اور ایک عالمی سطح کا مفکر ایک ساتھ سانس لیتے تھے۔ آئیے، اس عظیم شاعر کی زندگی کے ان مخفی گوشوں پر نظر ڈالتے ہیں جو آپ کو ایک نئے فیض سے روشناس کرائیں گے۔

2. حد درجہ شرمیلا بچپن اور 'خواتین کا ہجوم' فیض کا بچپن ان کے بعد کے انقلابی قد و قامت کے بالکل برعکس تھا۔ وہ انتہا درجے کے شرمیلے، نرم مزاج اور لڑائی جھگڑے سے اس قدر دور بھاگنے والے تھے کہ ان کی یہ کیفیت 'ڈرپوک پن' کی حدوں کو چھوتی تھی۔ ان کے بھائی، طفیل اور عنایت، تو باہر کی دنیا کے کھلنڈرے پن میں مگن رہتے، لیکن فیض کا زیادہ تر وقت گھر کی خواتین کے حصار میں گزرتا۔ اسی 'شریفانہ تربیت' نے ان کے لہجے کو وہ نفاست اور دھیما پن عطا کیا جو بعد میں ان کی شاعری کا طرۂ امتیاز بنا۔ ان کا احتجاج کبھی اجڈ یا غیر مہذب نہیں ہوا، بلکہ اس میں ایک جمالیاتی رچاؤ ہمیشہ موجود رہا۔

فیض نے خود اس ماحول کی عکاسی ان الفاظ میں کی ہے:

"بچپن کا میں سوچتا ہوں تو ایک بات خاص طور سے یاد آتی ہے کہ ہمارے گھر میں خواتین کا ہجوم تھا۔۔۔ فائدہ تو یہ ہوا کہ ان خواتین نے ہم کو انتہائی شریفانہ زندگی بسر کرنے پر مجبور کیا جس کی وجہ سے کوئی غیر مہذب یا اجڈ قسم کی بات اس زمانے میں ہمارے منہ سے نہیں نکلتی تھی، اب بھی نہیں نکلتی۔ نقصان یہ ہوا جس کا مجھے اکثر افسوس ہوتا ہے کہ بچپن میں کھلنڈرے پن یا ایک طرح کی لہو و لعب کی زندگی گزارنے سے ہم محروم رہے۔"

3. آغا حشر کا سحر اور تھیٹر سے لگاؤ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ فیض کی تخلیقی حس کو جلا بخشنے میں تھیٹر کا بڑا ہاتھ تھا۔ محض 14 سال کی عمر میں وہ آغا حشر کاشمیری کے ڈراموں کے اس قدر اسیر ہوئے کہ رات دیر گئے تک اپنے دوستوں کے ساتھ ناٹک منڈلیوں کے تماشوں میں غائب رہتے۔ وہ اسٹیج پر ہونے والے بہادرانہ واقعات کو خود پر طاری کر لیتے اور خود کو ایک ایسے ہیرو کے طور پر تصور کرتے جو اپنے عقائد کی خاطر جان پر کھیل جائے۔ یہی وہ ابتدائی دور تھا جس نے فیض کے اندر ایک 'ڈرامائی شدت' پیدا کی، جس کا اظہار بعد میں ان کے ریڈیائی ڈراموں اور ان کی نظموں کے مخصوص منظر ناموں میں نظر آتا ہے۔

4. کیمبرج کا وہ سفر جو جنگ کی نذر ہو گیا 1939 میں فیض کی زندگی ایک ایسے موڑ پر کھڑی تھی جہاں سے وہ ایک 'ولایت پلٹ' ماہرِ تعلیم بن سکتے تھے۔ انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا تھا، اطالوی بحری جہاز میں ٹکٹ بک تھا اور ولایتی کپڑے بھی تیار تھے۔ لیکن روانگی سے محض 10 دن پہلے دوسری جنگِ عظیم چھڑ گئی اور سمندری راستے بند ہو گئے۔ یہاں ایک اہم تجزیاتی سوال جنم لیتا ہے: اگر فیض کیمبرج چلے جاتے تو کیا وہ 'عوام کے شاعر' بن پاتے؟ شاید نہیں، شاید وہ ایک خشک تعلیمی ماہر یا مغربی لبرل بن کر رہ جاتے۔ اس حادثے نے انہیں برصغیر کی مٹی سے جوڑے رکھا اور انہیں وہ انقلابی فیض بنا دیا جس کی آج دنیا معترف ہے۔

5. لیفٹیننٹ کرنل فیض: وردی میں چھپا ایک اشتراکی ایک کٹر اشتراکی کا برطانوی ہندی فوج میں اعلیٰ عہدے پر ہونا کسی معجزے سے کم نہیں۔ فیض نے 1942 میں بطور کپتان فوج میں شمولیت اختیار کی اور محکمۂ تعلقاتِ عامہ (PR) کا انتخاب کیا تاکہ وہ براہِ راست جنگی ہلاکتوں سے دور رہ سکیں۔ ان کی پیشہ ورانہ مہارت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ وہ محض تین سال میں کپتان سے میجر (1943) اور پھر لیفٹیننٹ کرنل (1944) کے عہدے تک پہنچ گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ فوج میں جنرل اکبر خان کے ماتحت تھے، جو خود بھی بائیں بازو کے نظریات رکھتے تھے۔ فوجی نظم و ضبط اور انقلابی فکر کا یہ تضاد فیض کی شخصیت کا ایک نہایت منفرد پہلو ہے۔

6. رومان سے انقلاب تک: محبوب کی نئی تعریف فیض کی شاعری کا آغاز اختر شیرانی اور حفیظ جالندھری کے زیرِ اثر خالص رومانوی رنگ میں ہوا تھا۔ لیکن ان کے فکری ارتقاء نے 'محبوب' کے تصور کو ہی بدل کر رکھ دیا۔ ان کی شاہکار نظم "مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ" وہ سنگِ میل ہے جہاں انہوں نے واضح کیا کہ اب محبوب کی زلفوں کی اسیری سے بڑھ کر انسانیت کے دکھ اہم ہو چکے ہیں۔ یہاں 'محبوب' کی خوبصورتی سماجی انصاف کی تڑپ میں ضم ہو جاتی ہے۔

اس انقلاب کو انہوں نے ان لافانی مصرعوں میں پرویا:

ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم ریشم و اطلس و کمخواب میں بنوائے ہوئے جا بجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

7. جیل خانہ: جہاں 'زنداں نامہ' نے مشاہدہ گاہ بنا راولپنڈی سازش کیس کے سلسلے میں فیض کی چار سالہ اسیری (1951-1955) ان کے فن کے لیے ایک بڑی نعمت ثابت ہوئی۔ جہاں عام قیدی ٹوٹ جاتے ہیں، وہاں فیض نے جیل کی کال کوٹھڑی کو ایک مشاہدہ گاہ بنا لیا۔ "دستِ صبا" اور "زنداں نامہ" جیسی شاہکار تخلیقات اسیری کے اسی کرب سے برآمد ہوئیں۔ فیض نے ثابت کیا کہ زنجیروں کی جھنکار کو بھی موسیقی میں بدلا جا سکتا ہے، بشرطیکہ قلم حق گوئی کا علمبردار ہو۔

اختتام فیض احمد فیض کی زندگی تضادات کا ایک ایسا حسین مرقع تھی جہاں سپاہیانہ نظم و ضبط اور شاعرانہ حساسیت ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ حلیف تھے۔ ایک شرمیلا بچہ جب لیفٹیننٹ کرنل بنا اور پھر جیل کی سلاخوں کے پیچھے بیٹھ کر عالمی امن کا سفیر کہلایا، تو یہ ثابت ہوا کہ فیض کسی ایک نظریے یا پیشے تک محدود نہیں تھے۔ کیا فیض کی شاعری ان کٹھن تجربات اور فوجی و سیاسی کشمکش کے بغیر اتنی ہی پر اثر ہوتی؟ یقیناً نہیں، کیونکہ ان کے الفاظ ان کے خونِ جگر سے سینچے ہوئے تھے۔ فیض کی میراث صرف الفاظ کی ترتیب نہیں، بلکہ انسانی وقار اور آزادی کی وہ آفاقی اذان ہے جو ہر دور کے استبداد کو للکارتی رہے گی۔

Previous Post Next Post

Gallery

انٹرنیشنل خبریں