جاپان کا تصور ذہن میں آتے ہی ایک ایسے تمدن کی تصویر ابھرتی ہے جہاں مستقبل کی چکا چوند کر دینے والی 'نیون' روشنیاں اور ہائی ٹیک بلٹ ٹرینیں، صدیوں پرانی روایات اور سکون آور مندروں کے ساتھ ہم آہنگ نظر آتی ہیں۔ یہ ملک بظاہر ایک جدید ترین جنت معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کی ظاہری چمک دمک کے پیچھے تاریخ، جغرافیہ اور سماجی تبدیلیوں کی ایک ایسی پیچیدہ داستان پوشیدہ ہے جو بہت کم لوگوں کے علم میں ہے۔
ایک ماہرِ امورِ خارجہ اور ثقافتی مبصر کی نظر سے جب ہم جاپان کا تجزیہ کرتے ہیں، تو خام اعداد و شمار ایک بالکل مختلف اور حیران کن حقیقت آشکار کرتے ہیں۔ اس تجزیاتی مطالعے میں ہم جاپان کے ان پانچ اہم پہلوؤں کا جائزہ لیں گے جو نہ صرف اس ملک کی انفرادیت کو واضح کرتے ہیں بلکہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ یہ قوم کس طرح اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے خود کو نئے سرے سے ڈھال رہی ہے۔
1۔ جزیروں کی پوشیدہ دنیا: 14,000 سے زائد جزائر کا مجموعہ
جاپان کے بارے میں عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ یہ چند بڑے جزیروں پر مشتمل ہے، لیکن حال ہی میں کی گئی ایک نئی سرکاری گنتی نے سب کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ جدید ترین جغرافیائی ڈیٹا کے مطابق، جاپانی مجمع الجزائر اب 14,121 جزائر پر مشتمل ہے، جو کہ سابقہ گنتی سے کہیں زیادہ ہے۔ اس وسیع جغرافیائی پھیلاؤ کے باوجود، ملک کا 75 فیصد حصہ پہاڑی سلسلوں اور گھنے جنگلات سے ڈھکا ہوا ہے، جو انسانی رہائش کے لیے انتہائی دشوار گزار ہے۔
اسی جغرافیائی تنگی کے باعث، جاپان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ساحلی میدانوں کے چند مخصوص علاقوں میں سمٹ کر رہ گیا ہے۔ زمین کی اس قلت اور پہاڑی ساخت کے باوجود، جاپانیوں نے اپنی سرزمین کو "نیہون" یعنی "سورج کی اصل" (Sun Origin) کا نام دیا، جسے دنیا آج "ابھرتے ہوئے سورج کی سرزمین" کے طور پر جانتی ہے۔
2۔ معمر ترین معاشرہ اور معاشی جمود کا سنگین چیلنج
جاپان اس وقت ایک ایسے آبادیاتی بحران کی زد میں ہے جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔ یہاں کی اوسط عمر (Median Age) 48.4 سال ہے، جو کہ دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ جاپان کا معاشی جمود، جسے اکثر 'کھوئی ہوئی دہائیاں' (Lost Decades) کہا جاتا ہے، دراصل اسی عمر رسیدہ آبادی اور سکڑتی ہوئی افرادی قوت کا شاخسانہ ہے۔ جب کام کرنے والے ہاتھ کم اور بزرگوں کی تعداد ایک تہائی ہو جائے، تو معیشت میں لچک برقرار رکھنا ایک کٹھن چیلنج بن جاتا ہے۔
آبادی کے حوالے سے جنوری 2026 کے تازہ ترین تخمینے اور مستقبل کی صورتحال کچھ یوں ہے:
یکم جنوری 2026 کے تخمینے کے مطابق جاپان کی آبادی تقریباً 12 کروڑ 29 لاکھ 50 ہزار ہے، لیکن خدشہ ہے کہ 2065 تک یہ تیزی سے کم ہو کر صرف 8 کروڑ 80 لاکھ رہ جائے گی۔
3۔ خواتین اور اعلیٰ تعلیم: ایک خاموش انقلاب
ایک ایسے معاشرے میں جہاں روایتی اقدار کو بہت اہمیت دی جاتی ہے، تعلیمی میدان میں خواتین کی پیش قدمی کسی انقلاب سے کم نہیں۔ جاپان کا نظامِ تعلیم دنیا کے بہترین نظاموں میں شمار ہوتا ہے، جہاں 15 سالہ طلبہ 'پیسا' (PISA) درجہ بندی کے مطابق "مطالعے کی صلاحیت، ریاضی اور سائنس" میں دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر ہیں۔
اس تعلیمی معیار کے اثرات درج ذیل اعداد و شمار سے واضح ہوتے ہیں:
- جاپانی خواتین: 59 فیصد خواتین کے پاس یونیورسٹی کی ڈگری ہے۔
- جاپانی مرد: 52 فیصد مرد یونیورسٹی سطح تک تعلیم یافتہ ہیں۔
یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جاپان کی خواتین نہ صرف مردوں سے زیادہ تعلیم یافتہ ہیں بلکہ وہ مستقبل کے جاپانی معاشرے کی فکری بنیادیں تشکیل دینے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔
4۔ روبوٹکس: افرادی قوت کی کمی کا تکنیکی حل
جاپان کی روبوٹکس میں عالمی برتری محض ٹیکنالوجی کا شوق نہیں، بلکہ اس کی سماجی ضرورت بن چکی ہے۔ 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق، جاپان دنیا کی کل روبوٹکس سپلائی کا 38 فیصد فراہم کرتا ہے۔ ماہرین اسے جاپان کی گرتی ہوئی آبادی کا ایک سٹریٹجک حل قرار دیتے ہیں، جہاں انسانوں کی جگہ روبوٹ صنعتی اور سماجی خلا کو پُر کر رہے ہیں۔
جاپان کی یہ تکنیکی لچک اور ثابت قدمی 2011 کے تباہ کن 'توہوکو' (Tōhoku) زلزلے جیسے حادثات کے بعد بھی کمزور نہیں پڑی۔ آج جاپان کے عزائم زمین سے آگے خلا تک پھیلے ہوئے ہیں، جہاں وہ 2030 تک چاند پر اپنا بیس قائم کرنے اور وہاں خلاباز اتارنے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے۔
5۔ نام کی اصل: ایک تاریخی اور لسانی سفر
حیرت انگیز طور پر، لفظ "جاپان" خود جاپانی زبان کا لفظ نہیں ہے۔ اس نام کی جڑیں چینی، مالائی اور پرتگالی زبانوں سے ہوتی ہوئی ہم تک پہنچی ہیں۔ تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ انگریزی زبان میں اس کا پہلا نشان 1577 میں شائع ہونے والی ایک کتاب میں ملتا ہے، جو دراصل 1565 کے ایک پرتگالی خط کا ترجمہ تھا، جس میں اس ملک کو "Giapan" لکھا گیا تھا۔
مقامی لوگ اپنے ملک کو "نیہون" یا "نپون" پکارتے ہیں، جس کا لغوی مطلب "طلوعِ آفتاب" ہے۔ یہ قدیم نام اور جدید بین الاقوامی شناخت اس بات کی علامت ہے کہ جاپان نے کس طرح عالمی تجارت اور سفارت کاری کے ذریعے اپنی ایک منفرد پہچان بنائی۔
خاتمہ
جاپان ایک ایسی "ثقافتی سپر پاور" بن چکا ہے جس نے اینیمی (Anime)، ویڈیو گیمز اور اپنے لذیذ پکوانوں کے ذریعے دنیا کے ہر کونے میں اپنا اثر رسوخ قائم کر لیا ہے۔ سکڑتی ہوئی آبادی اور جغرافیائی آفات کے باوجود، اس ملک کی لچکدار قوت اسے دنیا کی بڑی طاقتوں کی صف میں کھڑا رکھتی ہے۔
لیکن یہاں ایک بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے: کیا کوئی معاشرہ اپنی آبادی میں اتنی تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں اور کمی کے باوجود اپنی قدیم روح اور روایات کو برقرار رکھ پائے گا؟ آپ کے خیال میں ٹیکنالوجی اور انسان کے اس بدلتے ہوئے توازن کا مستقبل کیا ہوگا؟
