جب ہم پاکستان کے عظیم مصور شاکر علی کا نام سنتے ہیں تو ذہن میں ان کی شہرہ آفاق پینٹنگز آتی ہیں۔ لیکن کیا ہو اگر ہم آپ کو بتائیں کہ ان کی سب سے بڑی میراث کینوس پر نہیں، بلکہ اس دنیا میں ہے جسے وہ اپنے پیچھے چھوڑ گئے؟ ان کی رنگوں اور لکیروں سے سجی دنیا کے پیچھے عاجزی، قیادت اور محبت کی ایک ایسی داستان پوشیدہ ہے جو ان کے فن سے بھی زیادہ متاثر کن ہے۔ آئیے ان کی زندگی کے چار ایسے غیر معمولی پہلوؤں کو جانتے ہیں جو انہیں ایک فنکار سے بڑھ کر ایک عہد ساز شخصیت بناتے ہیں۔
فنکار ہی نہیں، ایک ادارہ ساز بھی تھے
شاکر علی کی سب سے پائیدار میراث کوئی پینٹنگ نہیں، بلکہ ایک پورا ادارہ ہے: نیشنل کالج آف آرٹس (NCA)۔ جب انہوں نے 1953 میں میو اسکول آف آرٹس میں قدم رکھا تو یہ تاریخی ادارہ اپنی شناخت کھو چکا تھا۔ یہاں قدامت پرست اساتذہ تھے جنہیں فنونِ لطیفہ سے کوئی دلچسپی نہ تھی، اور وہ طلباء تھے جنہیں کہیں اور داخلہ نہیں مل سکا تھا۔ شاکر علی نے تن تنہا اپنی موجودگی، انتھک کوششوں اور دوستانہ رویے کے ذریعے اس ادارے کی روح کو زندہ کیا، اور بالآخر اسے ملک کے سب سے معتبر فنی ادارے میں تبدیل کر دیا۔
ان کے دوست سبطِ حسن کے الفاظ میں یہ حقیقت خوب عیاں ہوتی ہے:
"وہ خود ایک ادارہ تھے لیکن اپنے پیچھے ایک ایسا تعلیمی ادارہ چھوڑ گئے جو ان کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کر سکے گا۔"
شہرت کے باوجود، انا سے پاک شخصیت
لیکن ایک پورا ادارہ کھڑا کرنا ہی ان کی عظمت کی واحد وجہ نہ تھی؛ ان کی شخصیت کا ایک اور پہلو تھا جو انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز کرتا تھا۔ شاکر علی کی بین الاقوامی شہرت اور ان کی گہری عاجزی کے درمیان ایک حیران کن توازن تھا۔ فنکاروں کی دنیا اکثر بڑی اناؤں سے بھری ہوتی ہے، لیکن شاکر علی "نرگسیت پسند فنکاروں" کے بالکل برعکس تھے۔ عاجزی اور انکساری ان کی فطرت کا حصہ تھی۔ وہ بہت کم بولتے اور کبھی شہرت کے پیچھے نہیں بھاگے۔ شاید یہی خوبی ان کی سب سے بڑی طاقت تھی۔ ان کی انا سے پاک شخصیت نے ہی انہیں ایک ایسا مقناطیس بنایا جس نے طلباء اور مفکرین کو اپنی طرف کھینچا اور ایک ایسا ماحول پیدا کیا جہاں فن پروان چڑھ سکتا تھا۔
جیسا کہ سبطِ حسن نے بیان کیا:
"انہیں نہ تو اپنی مہارت کی عظمت پر فخر تھا اور نہ ہی انہوں نے کبھی نرگسیت پسند فنکاروں کی طرح اپنے بارے میں بات کی۔ عاجزی اور انکساری ان کی فطرت تھی۔"
اُن کی اصل میراث زندہ ہے
شاید شاکر علی کی سب سے حیران کن میراث ان کی پینٹنگز نہیں، بلکہ وہ لوگ ہیں جنہیں انہوں نے متاثر کیا۔ اپنے مشہور ہم عصروں جیسے عبدالرحمٰن چغتائی، صادقین اور گل جی کے برعکس، شاکر علی کی سب سے منفرد میراث ان کے شاگرد ہیں۔ آج ان کے شاگرد پاکستان اور بیرون ملک فن کی دنیا کو اپنی تخلیقات سے روشن کر رہے ہیں اور اپنے کام کے ذریعے ان کے ورثے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ان کی شخصیت میں ایک ایسی مقناطیسی کشش تھی کہ ان کے شاگرد، ادیب اور دانشور ان کے "عقیدت مند" بن گئے۔ وہ محض ایک استاد نہیں، بلکہ ایک محبوب مرشد اور ایک حقیقی ’سیج‘ تھے۔
اُن کے فن کا راز ایک لفظ میں: محبت
آخر وہ کیا چیز تھی جس نے شاکر علی کو ایسا غیر معمولی استاد اور ادارہ ساز بنایا؟ اس کا جواب ایک لفظ میں پوشیدہ ہے: محبت۔ ان کے قریبی دوست سبطِ حسن کے مطابق، شاکر علی "محبت کا مجسمہ" تھے اور یہی جذبہ ان کی زندگی اور فن دونوں کا مرکزی محور تھا۔ محبت اور تخلیق کی یہی علامتیں ان کی پینٹنگز میں نمایاں ہیں، جیسے "گوتم بدھ اور یسوع مسیح، ماں اور بچہ، ایک برہنہ نسوانی جسم، انڈوں سے نکلتی چڑیاں اور رنگ برنگے پھول۔" محبت اور شفقت پر اسی غیر متزلزل توجہ نے ہی ان کے فن کو وہ سادگی، نرمی اور ٹھہراؤ بخشا جو آج بھی لوگوں کے دلوں کو چھوتا ہے۔
شاکر علی کی عظمت صرف ان لکیروں میں نہیں تھی جو انہوں نے کینوس پر کھینچیں، بلکہ اس گہری محبت اور عاجزی میں تھی جس نے انہیں ایک ادارہ بنانے اور ایک پوری نسل کی رہنمائی کرنے کے قابل بنایا۔ ان کا فن ان کی شخصیت کا عکس تھا اور ان کی شخصیت ان کے فن کی روح تھی۔
یہ ہمیں ایک اہم سوال پر سوچنے پر مجبور کرتا ہے: ایک عظیم میراث کیا ہے: وہ کام جو ہم پیچھے چھوڑ جاتے ہیں، یا وہ لوگ جنہیں ہم کچھ نیا کرنے کی ترغیب دیتے ہیں؟