حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ اسلامی تاریخ کی ایک ایسی مرکزی شخصیت ہیں جنہیں پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے چچازاد بھائی، داماد اور چوتھے خلیفہ راشد ہونے کا شرف حاصل ہے۔ جن کی شخصیت سنی اور شیعہ دونوں مکاتب فکر میں یکساں طور پر انتہائی عقیدت و احترام کی حامل ہے۔ وہ اسلام کی دعوت پر لبیک کہنے والے اولین لوگوں میں سے تھے، ایک بے مثال جنگجو، علم و حکمت کے گہرے سمندر اور ایک عادل حکمران تھے۔ اس دستاویز کا مقصد ان کے مختلف کرداروں اور اسلامی تاریخ میں ان کی خدمات کو آسان اور واضح زبان میں بیان کرنا ہے تاکہ ایک نیا سیکھنے والا ان کی ہمہ جہت شخصیت اور ان کی لازوال میراث کو بہتر طور پر سمجھ سکے۔
--------------------------------------------------------------------------------
1. رسول اللہ ﷺ کے قریبی ساتھی اور عزیز
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ابتدائی زندگی مکمل طور پر پیغمبر اکرم ﷺ کی صحبت اور تربیت میں گزری، جس نے ان کی شخصیت پر گہرے نقوش چھوڑے۔
- ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام: حضرت علیؓ کی پرورش خود پیغمبر اکرم ﷺ کی آغوشِ شفقت میں ہوئی۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو نبوت عطا کی تو حضرت علیؓ کی عمر صرف دس سال تھی اور وہ آپ ﷺ کے ساتھ ہی رہتے تھے۔ اسی قربت کی وجہ سے وہ اسلام کی دعوت پر لبیک کہنے والے اولین لوگوں میں شامل ہوئے۔ مؤرخین کے مطابق ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ عورتوں میں، حضرت ابوبکر صدیقؓ مردوں میں، حضرت زید بن حارثہؓ غلاموں میں اور حضرت علیؓ بچوں میں سب سے پہلے ایمان لائے۔
- ہجرت میں کلیدی کردار: جب مکہ کے مشرکین نے پیغمبر اکرم ﷺ کے قتل کا منصوبہ بنایا اور آپ ﷺ نے مدینہ ہجرت کا ارادہ فرمایا تو اس نازک موقع پر حضرت علیؓ نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے آپ ﷺ کے بستر پر استراحت فرمائی تاکہ مشرکین کو دھوکہ ہو اور پیغمبر ﷺ بحفاظت مکہ سے نکل سکیں۔
- خاندانی تعلق: ان کا پیغمبر اکرم ﷺ کے ساتھ دوہرا اور نہایت قریبی خاندانی رشتہ تھا۔ وہ آپ ﷺ کے چچا ابو طالب کے بیٹے یعنی آپ کے حقیقی چچازاد بھائی تھے اور بعد میں آپ ﷺ نے اپنی سب سے پیاری بیٹی، سیدۃ النساء حضرت فاطمہ زہراؓ کا نکاح ان سے کر کے انہیں دامادی کا شرف بھی بخشا۔
- بھائی چارے کا رشتہ: مدینہ ہجرت کے بعد جب رسول اللہ ﷺ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارے کا رشتہ قائم فرمایا تو آپ ﷺ نے حضرت علیؓ کو اپنے لیے منتخب کیا اور انہیں اپنا بھائی قرار دیا۔ یہ واقعہ پیغمبر ﷺ کی نظر میں ان کے خاص مقام کو ظاہر کرتا ہے۔
نبی اکرم ﷺ کی صحبت میں پروان چڑھنے والی یہی وفاداری تھی جس نے میدانِ جنگ میں حیدرِ کرار کی صورت اختیار کر لی۔
--------------------------------------------------------------------------------
2. ایک بے مثال جنگجو اور فوجی رہنما
حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی شجاعت اور فوجی بصیرت سے نوازا تھا۔ انہوں نے اسلام کی ابتدائی تمام اہم جنگوں میں نہ صرف شرکت کی بلکہ اپنی بہادری سے مسلمانوں کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہیں "اسد اللہ" یعنی اللہ کا شیر بھی کہا جاتا ہے۔
ذیل میں ان کی چند اہم فوجی مہمات کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے:
جنگ کا نام | حضرت علی کا کلیدی کردار اور اس کی اہمیت |
غزوۂ بدر | یہ مسلمانوں اور کفار کے درمیان پہلا بڑا معرکہ تھا۔ جنگ کے آغاز میں انہوں نے مبارزت (انفرادی مقابلے) میں قریش کے مشہور بہادر ولید کو ایک ہی وار میں قتل کر دیا۔ اس کے بعد پوری جنگ میں بے مثال بہادری کا مظاہرہ کیا، جس سے مسلمانوں کی پہلی عظیم فتح ممکن ہوئی۔ |
غزوۂ احد | جب ایک غلط فہمی کی وجہ سے مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے اور افراتفری پھیل گئی، تو اس نازک وقت میں حضرت علیؓ ان چند لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے ثابت قدمی دکھائی، اسلامی پرچم کو سنبھالا، اور بے جگری سے لڑتے ہوئے پیغمبر اکرم ﷺ کا دفاع کیا۔ |
غزوۂ خندق | اس جنگ میں کفار نے مدینہ کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ عرب کا مشہور زمانہ بہادر عمرو بن عبدود خندق پار کر کے آیا اور مقابلے کا چیلنج دیا۔ حضرت علیؓ اس کے مقابلے کے لیے نکلے اور اسے شکست دی، جس سے دشمن کے حوصلے پست ہو گئے اور مسلمانوں کی ہمت بڑھ گئی۔ |
فتح خیبر | جب خیبر کے مضبوط قلعے کو فتح کرنے میں کئی روز کی کوشش کے باوجود کامیابی نہ ہوئی تو پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا: "کل میں علم اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔" اگلے دن آپ ﷺ نے یہ علم حضرت علیؓ کو عطا کیا، جنہوں نے خیبر کا ناقابلِ تسخیر قلعہ فتح کر کے "فاتح خیبر" کا لقب پایا۔ اس جنگ میں خیبر کا سردار مرحب یہ رجز پڑھتا ہوا نکلا: "قد علمت خیبر انی مرحب" (خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں)۔ اس کے جواب میں فاتح خیبر نے یہ رجز پڑھا: "اناالذی سمتنی امی حیدرہ" (میں وہ ہوں جس کا نام میری ماں نے حیدر رکھا ہے) اور ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کر دیا۔ |
ان کی بہادری محض ذاتی طاقت کا مظاہرہ نہیں تھی، بلکہ یہ ابتدائی مسلم معاشرے کے دفاع، بقا اور اسلام کی سربلندی کے لیے انتہائی اہم تھی۔
میدانِ جنگ میں جہاں ان کی تلوار 'اسد اللہ' بن کر چمکتی تھی، وہیں علم و حکمت کی دنیا میں وہ 'باب مدینۃ العلم' کے منصب پر فائز تھے۔
--------------------------------------------------------------------------------
3. علم و حکمت کا دروازہ: عالم اور قاضی
پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا: "میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔" یہ حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علمی مقام کی بہترین عکاسی کرتی ہے۔ وہ قرآن، حدیث، فقہ اور قضا (فیصلہ کرنے) کے شعبوں میں گہری بصیرت رکھتے تھے۔
- قرآن کے عالم: وہ قرآنِ مجید کے ہر پہلو سے گہری واقفیت رکھتے تھے۔ وہ فرماتے تھے کہ قرآن کی کوئی آیت ایسی نہیں جس کے بارے میں وہ نہ جانتے ہوں کہ وہ کب، کہاں اور کس کے بارے میں نازل ہوئی۔ اسی لیے ان کا شمار صحابہ کرام کے اعلیٰ ترین مفسرین میں ہوتا ہے۔
- حدیث کے راوی: پیغمبر اکرم ﷺ سے مسلسل قربت کی وجہ سے وہ حدیثِ نبوی کا ایک اہم اور مستند ذریعہ تھے۔ اگرچہ وہ روایت کرنے میں انتہائی محتاط تھے، لیکن ان سے مروی احادیث اسلامی علم کا ایک قیمتی ذخیرہ ہیں۔
- فقہ اور اجتہاد: پیچیدہ شرعی مسائل کو حل کرنے میں ان کی فقہی بصیرت اور اجتہادی صلاحیت بے مثال تھی۔ بڑے بڑے صحابہ، بشمول حضرت عمر فاروقؓ، مشکل مسائل میں ان سے مشورہ کیا کرتے تھے۔
- قاضی اور منصف: پیغمبر اکرم ﷺ نے خود ان کی فیصلہ کرنے کی صلاحیت پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں یمن کا قاضی (جج) مقرر فرمایا۔ ان کے فیصلے ذہانت، گہری سمجھ بوجھ اور انصاف کی بہترین مثالیں سمجھے جاتے ہیں۔ یمن میں ان کے ایک مشہور فیصلے کا تعلق ایک ایسے واقعے سے ہے جہاں چند لوگوں نے شیر پھنسانے کے لیے کنواں کھودا تھا۔ اتفاقاً چار لوگ یکے بعد دیگرے اس میں گر کر ہلاک ہو گئے۔ ان کے ورثاء آپس میں لڑنے لگے تو حضرت علیؓ نے ان کے خون بہا کی ادائیگی کا ایسا ذہانت پر مبنی فیصلہ فرمایا جسے سن کر بعد میں نبی اکرم ﷺ نے بھی تبسم فرمایا اور اسے برقرار رکھا۔
- علمِ نحو کے موجد: یہ ان کا ایک منفرد کارنامہ ہے کہ جب انہوں نے محسوس کیا کہ نئے مسلمان ہونے والے غیر عرب لوگ قرآن کو اعراب کی غلطیوں کے ساتھ پڑھ رہے ہیں، تو انہوں نے ابو الاسود الدؤلی کو عربی گرامر (علمِ نحو) کے بنیادی اصول سکھائے، تاکہ قرآن کو صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھا اور سمجھا جا سکے۔
علم و انصاف کا یہی گہرا امتزاج تھا جس نے انہیں خلافت کی ذمہ داریوں کے لیے تیار کیا، جہاں انہیں تاریخ کے مشکل ترین چیلنجز کا سامنا کرنا تھا۔
--------------------------------------------------------------------------------
4. چوتھے خلیفہ راشد: حکمران اور منتظم
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والے انتہائی مشکل حالات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خلافت کی ذمہ داری سنبھالی۔ ان کا دورِ خلافت (656-661ء) اگرچہ اندرونی چیلنجوں سے بھرا ہوا تھا، لیکن ان کے اصولِ حکمرانی آج بھی ایک مثال کی حیثیت رکھتے ہیں۔
- خلافت کا انتخاب: حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد جب خلافت کا منصب خالی ہوا تو مہاجرین و انصار نے متفقہ طور پر ان سے یہ ذمہ داری قبول کرنے پر اصرار کیا۔ ابتدائی انکار کے بعد، مسلمانوں کے شدید اصرار پر انہوں نے یہ منصب قبول فرمایا۔
- نظم و نسق کے اصول: ان کی حکمرانی کی بنیاد انصاف، دیانت اور عوام کی فلاح پر تھی۔
- عمال کی نگرانی: وہ اپنے مقرر کردہ گورنروں (عمال) کے طرزِ عمل پر سخت نظر رکھتے تھے اور کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا عوام پر زیادتی کو برداشت نہیں کرتے تھے۔
- رعایا کے ساتھ شفقت: ان کا طرزِ عمل رعایا کے ساتھ انتہائی مشفقانہ تھا۔ وہ غریبوں، یتیموں اور مسکینوں کا خاص خیال رکھتے تھے اور ان کی ضروریات کو پورا کرنا اپنی اولین ذمہ داری سمجھتے تھے۔
- بیت المال کا محتاط استعمال: وہ عوامی خزانے (بیت المال) کے استعمال میں اس قدر دیانت دار اور محتاط تھے کہ اپنے لیے یا اپنے اہل خانہ کے لیے اس میں سے کوئی رعایت روا نہ رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ اصفہان سے مالِ غنیمت آیا جس میں ایک روٹی بھی شامل تھی۔ حضرت علیؓ نے تمام مال کے ساتھ اس روٹی کے بھی سات ٹکڑے کیے اور قرعہ ڈال کر تقسیم فرمایا تاکہ کسی کے ساتھ ذرہ برابر بھی ناانصافی نہ ہو۔
- دورِ خلافت کے چیلنجز: ان کا دورِ خلافت اندرونی خلفشار اور خانہ جنگیوں کی وجہ سے انتہائی مشکل اور پُرآشوب تھا۔ یہ تنازعات بڑی حد تک حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد قصاص (انصاف) کے پُر زور مطالبے کی وجہ سے پیدا ہوئے تھے۔ اسی بنا پر انہیں جنگِ جمل اور جنگِ صفین جیسے افسوسناک واقعات کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے وہ مملکت میں اس طرح کی اصلاحات اور فتوحات نہ کر سکے جس کی ان سے توقع تھی۔
ان کے دورِ حکمرانی کے چیلنجز ان کے کردار کی مضبوطی کو ظاہر کرتے ہیں، اور یہی اوصاف ان القابات میں بھی جھلکتے ہیں جو تاریخ نے انہیں عطا کیے۔
--------------------------------------------------------------------------------
5. مشہور القابات اور اعزازات
حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان کی زندگی میں ان کی غیر معمولی خوبیوں کی بنا پر کئی القابات سے یاد کیا گیا، جو آج بھی مسلمانوں میں عقیدت و احترام کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں۔
لقب | معنی اور پس منظر |
اسد اللہ / حیدر | "اللہ کا شیر"۔ یہ لقب ان کی بے مثال بہادری، جرأت اور میدانِ جنگ میں ان کے نڈر کردار کی وجہ سے دیا گیا۔ |
المرتضیٰ | "وہ جس سے (اللہ) راضی ہوا"۔ یہ لقب ان کی انتہائی پرہیزگاری، تقویٰ اور ہر حال میں اللہ کی رضا حاصل کرنے کی لگن کو ظاہر کرتا ہے۔ |
امیر المومنین | "مومنوں کے امیر"۔ یہ چوتھے خلیفہ راشد کے طور پر ان کا سرکاری لقب تھا، جو ان سے پہلے حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کے لیے بھی استعمال ہوتا تھا۔ |
باب مدینۃ العلم | "علم کے شہر کا دروازہ"۔ یہ لقب پیغمبر اکرم ﷺ کی اس مشہور حدیث کی طرف اشارہ ہے جس میں آپ ﷺ نے فرمایا: "میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔" |
--------------------------------------------------------------------------------
خلاصہ: ایک ہمہ جہت میراث
حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شخصیت مختلف کرداروں کا ایک حسین امتزاج تھی۔ وہ پیغمبر اکرم ﷺ کے ایک وفادار اور جاں نثار ساتھی، میدانِ جنگ کے ایک نڈر سپہ سالار، علم و حکمت کے ایک گہرے سمندر، اور ایک عادل و انصاف پسند حکمران تھے۔ ان کے ہر کردار نے اسلامی تاریخ پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ ان کی بہادری، علم، تقویٰ، اور انصاف پر مبنی حکمرانی نے انہیں اسلامی تاریخ کی ایک نہایت محترم، متاثر کن اور مرکزی شخصیت بنا دیا ہے، جن کی زندگی اور تعلیمات آج بھی کروڑوں مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
