بڑی دنیا پڑی ہے جو کہ تیرے گیت گاتی ہے
نئی نظمیں سناتی ہے
ملن کے گیت گاتی ہے۔
جو تیرے منتظر دیکھے
روپہلی دھوپ میں بیٹھے
کبھی بسکٹ کبھی چاۓ
کہیں پہ خشک میوے ہیں
کہیں بکرے کے ہیں پاۓ
۔۔۔۔۔۔۔
تیری خاطر مدرات میں کیا ہم نے نہیں دیکھا
کبھی شامیں کہیں راتیں سجیں ہم نے یہیں دیکھا
برف باری کے منظر میں وہ بچے ناچتے گاتے
گرم جیکٹ گرم شالیں سویٹر جرسیاں ڈالے
دسمبر سرد ہے لیکن یہاں پر سردیاں کیسی
دہکتی آگ اور انگیٹھیوں کے گردکیا سردی
سجی محفل ہے اور پکوان کی خوشبو بھی ہے سوندھی
کہیں پر کھیل بچوں کے کہیں بجتی ہے موسیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دسمبر اپنی پوری آب و تاب میں یوں ہم نے دیکھا ہے
دسمبر نے بھی ہم سب کو بھری دنیا میں دیکھا ہے
کہیں شادی کہیں میلے کہیں پر شعر خوانی ہے
کہیں یورپ کے ملکوں میں کرسمس کی کہانی ہے
منائیں عید کی خوشیاں یہ کیسی شادمانی ہے
کہیں تحفے تحائف ہیں
جو یاروں میں سجے محفل کہیں پھبتی لطائف ہیں
کہیں پر کھیل کے میدان کی رونق بھی دیکھی ہے
دسمبر سچ بتانا تو نے ساری دنیا خوب دیکھی ہے
۔۔۔۔۔۔۔
تمہارے پاس ساری دنیا کی خبر ہو گی
یہ یورپ ایشیا عرب و عجم پر بھی نظر ہو گی
یہ شرق وغرب کےمنظر۔ یہ روس اور یوکرائن جنگ
یہ عربستاں کے مرکز میں دہائیوں سےسلگتی جنگ
دسمبر تو نے بڑی جنگیں بھی دیکھیں ہیں
یہ جنگیں جیتتی اور ہارتی قومیں بھی دیکھی ہیں
جہاں بھی جنگ ہوتی ہے
کوئی قانون ہوتا ہے
کوئی دستور ہوتا ہے
کوئی منشور ہوتا ہے
جو جنگ میں قید ہو جائیں کہیں مغلوب ہو جائیں
حقوق ان کے بھی ہوتے ہیں بھلے معتوب ہو جائیں
۔۔۔۔۔۔۔
دسمبر آ تجھے ایک شہر میں دکھلا لےلاتا ہوں
جہاں ہر روز ہی جنگ ہو مناظر وہ دکھاتا ہوں۔
جہاں تک نظر جاتی ہے تباہی اور بربادی
یہ پورا شہر کھنڈر ہے جہاں پہلے تھی آبادی
یہاں پر جنگ سے پہلے بڑی رونق تھی آزادی
مگر اب بھوک کے ڈیرے ہیں ویرانی ہے افتادی
یہاں جو لوگ رہتے ہیں
وہ سارے کرب سہتے ہیں
یہاں بارش بھی ہوتی ہے یہاںسردی بھی آتی ہے
ہوا بھی سرد چلتی ہیں بدن میں خوں جماتی ہے
یہاں بارود کی حدت یہاں گرمی بھی آتی ہے
لگےجو دھوپ شدت سے بدن پھر وہ جلاتی ہے
یہاں شیطان کا لشکر جو قابض ہے زمینوں پر
یہاں قبضہ مکانوں پر تشدد ہے مکینوں پر
یہاں اللہ کے کچھ بندے
جو اپنے حق پہ لڑتے ہیں
بڑے دشمن سے الجھے ہیں
وہ راہ حق میں مرتے ہیں
فلسطینی مجاہد ہیں فقط اللہ سے ڈرتے ہیں
۔۔۔۔۔۔
بڑی طاقت میں دشمن ہے
اسے امداد حاصل ہے بڑا دجال کا لشکر
اکٹھے ہو گئے سارے یہ ظالم اوردہشت گر
مقابل میں یہ ہیں تھوڑے ہیں ۔ مگر اللہ نے جوڑے ہیں
قدس کی راہ میں نکلے ہیں اکیلے ہیں نہیتے ہیں
جو اپنے تھے قبیلے سب بڑے ظالم سے ڈرتے ہیں ۔اسی کا ساتھ دیتے ہیں
سواۓ دو ممالک کے
جو کھل کے ساتھ دیتے ہیں
بڑی امداد کرتے ہیں۔ وہ بس اللہ سے ڈرتے ہیں
۔۔۔۔۔۔
مگر یہ جنگ تھی بس جنگ
صیہونی فوج کے لشکر نے چاروں اور گھیرا ہے
ہزاروں ٹن کا وہ بارود شہر وں پر بکھیرا ہے
کوئی کوچہ نہ کوئی گھر کوئی بازار نہ چھوڑا
نہ اب بجلی نہ اب پانی اندھیرا ہی اندھیرا ہے
یہ کیسی جنگ تھی جس میں کوئی جاۓ پناہ نہ تھی
کوئی مسجد کوئی اسکول اب کچھ بھی نہیں چھوڑا
نہیں کوئی عمارت وہ کہ اب جس کو نہیں توڑا
آڑایا ہسپتالوں کو انہیں ویران کر ڈالا
شہر برباد کر ڈالا اسے سنسان کر ڈالا
کوئی آواز نہ نکلی کوئی فریاد نہ نکلی
طبیبوں سے خطیبوں تک
صحافی تک نہ چھوڑے ہیں
یہ ظالم ہیں لٹیرے ہیں بڑے منہ زور گھوڑے ہیں
یہ کیسی جنگ تھی لوگو! یہ کیسی جنگ بندی ہے
جو قابض تھے وہی قابض
چلی دشمن کی یوں سازش
جہاں بھی زخمیوں کو اور جنگی قیدیوں کو بے بسوں کو
کسی کیمپ میں بسایا ہے گویا قیدی بنایا ہے
وہاں پر بھوک ہی اسلحہ بنایا ہے
یا کوئی بم گرایا ہے
۔۔۔
بظاہر امن کی باتیں وہی فتنہ وہی گھاتیں
عیاری ہے مکاری ہے مگر اک جنگ جاری ہے
نہ پانی ہے نہ کھانا ہے نہ رہنے کو مکاں کوئی
نہ بستر ہے نہ کپڑے ہیں نہیں سنتا فغاں کوئی
دسمبر دیکھ لینا تم یہاں کی زندگی دیکھو
درندہ صفت دشمن کی یہاں درندگی دیکھو
یہاں معصوم بچے ہیں
یہاں مجبور مائیں ہیں
یہاں کے لوگ زخمی ہیں
کوئی ملبے کے نیچے زندہ دب گیا ہے
وہی پر باقی سانس پوری ہو کر گیاہے
وہی ملبہ جو اب کسی کا ابدی گھر ٹھہرا
جو زندہ بچ گیا ہے وہ اسی ملبے پہ آبیٹھا
۔۔۔۔
کھلا ہے آسماں سر پر کہ اب جائیں کہاں جائیں
طیارے جب کریں حملہ وہی پہ آگ برسائیں
امن کا جو بہانہ ہیں وہی پہلا نشانہ ہیں۔
یہ بس ایک جنگ کا منظر تھا۔ابھی کچھ اور باقی ہے
چلو تھوڑا سنبھلتے ہیں ذرا منزل بدلتے ہیں۔
یہاں اک اور کھنڈر دیکھتے ہیں۔
کبھی یہ خوبصورت تھا سکول ان کا
جو بم باری سے سارا گر چکا ہے ۔کہیں جل کے خاکستر چکا ہے
اب اس کے ایک پارک میں
بسی اک خیمہ بستی ہے۔
یہاں سارے کے سارے جنگ گذیدہ ہیں
زخمی عورتیں بچے یہ بوڑھے آبدیدہ ہیں
جو اپنی سانسیں گن رہے ہیں
کہ اب ہم کب مریں گے۔
بھوک سے افلاس سے
یا شدت کی پیاس سے
ان آسمانوں سے برستی آگ سے۔مسلسل جو برستی قہر ڈھاتی ہے نشیمن جو جلاتی ہے
فضا میں ہر طرف چنگھاڑتے یہ موت کے سائے۔یہ موت بانٹیں گے۔
یہاں پر جب کبھی امداد آتی ہے کبھی پانی کبھی روٹی کبھی سالن
توپھر برتن سےبرتن ٹکریں ٹن ٹناٹن ٹن
نا جانے کتنے ہاتھ نکلے
لیے برتن کہ اب کھانا ملے
اسی لمحے فضا میں شور ہو گا۔
بس اک دھماکہ بس اک چھناکہ
بس اک شعلہ اٹھے اور پھرچیتھڑے اڑیں۔
صیہونی کا یہی حربہ پرانا ہے۔
جہاں کوئی پناہ گاہ ہے جہاں کوئی ٹھکانا ہے
وہاں ہی بم گرانا ہے۔
کیا یہ جنگ ہے کوئی
یہ جنگ کا ڈھنگ ہے کوئی
نہ یہ جنگ ہے نہ ڈھنگ ہے
یہ حرکت باعت ننگ ہے
۔۔۔۔
دسمبر اب ادھر آؤ
یہاں اک اور منظر ہے۔
انہی کھنڈرات کے پیچھے
جہاں تھا اک شفا خانہ
مگر اب خیمہ بستی ہے
یہاں بھی آگ برسی ہے
جلے خیمے پھٹے کپڑے کٹے ہیں ہاتھ اور پاؤں
یہاں بھی سرد موسم ہے
کوئی بجلی نہ کوئی گیس اور کوئی نہ ہیٹر ہے
یہاں بارش کے موسم میں یا پانی ہے یا کیچڑ ہے
ہوا ٹھنڈی بدن چیرے ٹھٹھرتے تن کہاں جائیں
بدن پر چیتھڑے ہیں اور بیچارے کہاں جائیں
جہاں مٹی بھی گیلی ہے جہاں بستر بھی گیلا ہے
نہ کوئی آسرا ان کا نہ کوئی وسیلہ ہے
یہ غزہ کس نے دیکھی ہے یہ صدمہ کس نے جھیلا ہے
دسمبر تو یہاں بھی ہے نہ میلا نہ جھمیلا ہے
یہاں عیدیں بھی آتی ہے کرسمس بھی تو آیا ہے
یہاں تحفے تحائف کے بجاۓ بم ہی گرتے ہیں۔
بموں سے گر وہ بچ جائیں تو پھر بھوکے ہی مرتے ہیں
یہ کیسی جنگ ہے لوگو
اگرچہ بند ہے لوگو
یہ کیسی جنگ بندی ہے
یہ کیسے امن کے دعوے
غزہ میں ہے حقیقت کیا
کوئی دنیا کو دکھلاوے
۔۔۔۔
دسمبر تو نے دیکھا ہے یہاں کیسا دسمبر تھا
جہاں پہ بھوک کے ڈیرے جہاں پانی کی قلت ہو
جہاں پر ظلم ہو باقی مگر مدہوش ملت ہو
جہاں پہ جسم ننگے ہوں مگر موسم میں شدت ہو
جہاں پر سر پہ چھت نہ ہو فقط کھنڈر کا ملبہ ہو
جہاں پر بارشوں میں لوگ سردی سے ٹھٹھرتے ہوں
جہاں نہ گرم کمبل ہوں جہاں نہ گرم بستر ہوں
جہاں کی سرحدوں پر اس لیئے ہی سخت پہرے ہوں
کہ ان مجبور ان مقہور ان لاچار بندوں تک
کوئی اسباب نہ پہنچے کوئی امداد نہ پہنچے
جہاں مرنے سسکنے اور پھر ایڑی رگڑنے کو
فقط اک بھوک کافی ہو۔
وہاں تکلیف دینے کو
وہاں شدت بڑھانے کو
دسمبر تو نہ آیا کر
دسمبر تو نہ آیا کر