تعارف: سرخیوں سے آگے کی حقیقت
جب پاکستان کی معیشت کا ذکر آتا ہے تو عام طور پر چیلنجز اور مشکلات کا تصور ذہن میں آتا ہے۔ لیکن اگر آپ سرخیوں سے ہٹ کر 2026 کے اعداد و شمار کا گہرائی سے جائزہ لیں، تو ایک حیران کن اور پرامید کہانی سامنے آتی ہے - ایک ایسی کہانی جو استحکام اور ترقی کی ہے۔ یہ مضمون پاکستان کے لیے ایک تفصیلی اسٹریٹجک پیشگوئی سے اخذ کردہ سب سے زیادہ اہم اور اثر انگیز نکات کا جائزہ لے گا جو سرمایہ کاروں کے لیے ایک نئی تصویر پیش کرتے ہیں۔
پہلا نکتہ: اسٹاک مارکیٹ صرف بحال نہیں ہو رہی — بلکہ سبقت لے جا رہی ہے
تفصیلی پیشگوئیوں سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) ایک مضبوط بلش آؤٹ لک کے لیے تیار ہے۔ کے ایس ای-100 انڈیکس کا ہدف 2026 کے لیے 208,000 پوائنٹس مقرر کیا گیا ہے، جو 21.6% کی ممکنہ واپسی کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ کارکردگی اسے دیگر تمام اثاثہ جات کی کلاسوں سے واضح طور پر آگے رکھتی ہے۔
2026 میں متوقع منافع کا موازنہ:
- ایکویٹیز (کے ایس ای-100): 21.60%
- ٹی-بلز: 10.05%
- چاندی: 7.89%
- سونا: 5.15%
یہ اعداد و شمار اس لیے حیران کن ہیں کیونکہ اس مضبوط کارکردگی کے باوجود، مارکیٹ اب بھی پرکشش اور کم قیمت پر دستیاب ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج 8.0 کے فارورڈ P/E (پرائس ٹو ارننگ) تناسب پر ٹریڈ کر رہی ہے، جبکہ علاقائی اوسط 17.3 ہے۔ یہ "منافع میں رعایت" (earnings discount) اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مارکیٹ میں اب بھی ترقی کی کافی گنجائش موجود ہے۔ اس پرکشش ویلیویشن کو نئے عالمی اعتماد اور ان گہری ساختی اصلاحات سے تقویت ملتی ہے جن پر ہم آگے بات کریں گے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ مارکیٹ کی بنیادیں بظاہر مضبوط ہیں۔
۰ دوسرا نکتہ: عالمی اعتماد واپس آ گیا ہے — اور یہ باضابطہ ہے
بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے باضابطہ طور پر پاکستان کے معاشی استحکام کو تسلیم کیا ہے۔ 2025 میں، ملک کو کئی اہم کریڈٹ ریٹنگ اپ گریڈز ملے، جو عالمی سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا ثبوت ہیں۔
2025 میں پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں اپ گریڈز:
- فچ (Fitch): اپریل 2025 میں مستحکم آؤٹ لک کے ساتھ 'B-' میں اپ گریڈ کیا۔
- موڈیز (Moody's): اگست 2025 میں مستحکم آؤٹ لک کے ساتھ 'Caa1' میں اپ گریڈ کیا۔
یہ اپ گریڈز ایک انتہائی اہم پیشرفت ہیں۔ یہ بہتر بیرونی استحکام، مالیاتی استحکام، اور ملک کے مالی معاملات پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں، پاکستان میں سرمایہ کاری کا خطرہ کم ہو جاتا ہے، جس سے بین الاقوامی سرمائے کے لیے راہ ہموار ہوتی ہے۔
تیسرا نکتہ: عالمی طاقتیں پاکستان پر اپنی سرمایہ کاری دوگنا کر رہی ہیں
پاکستان نے چین، سعودی عرب، اور امریکہ کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک اور معاشی تعلقات کو مزید مضبوط کیا ہے۔
چین: سی پیک (CPEC) فیز II کے تحت، چین نے خصوصی اقتصادی زونز کے لیے 5 ارب امریکی ڈالر کے نئے وعدے کیے ہیں، جس سے صنعتی ترقی اور علاقائی رابطوں کو فروغ ملے گا۔
سعودی عرب: توانائی اور کان کنی کے شعبوں میں 25 ارب امریکی ڈالر کی بھاری سرمایہ کاری کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک نے ایک اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر بھی دستخط کیے ہیں، جس سے تعلقات کو مزید گہرائی ملی ہے۔
ریاستہائے متحدہ: تعلقات میں ایک "عملی ری سیٹ" دیکھنے میں آیا ہے، جس کے تحت ایک نئے تجارتی معاہدے کے تحت پاکستانی برآمدات پر ٹیرف کی شرح کو کم کر کے 19 فیصد کر دیا گیا ہے۔ امریکہ نے پاکستان کے توانائی اور معدنی شعبوں میں بھی گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔
چوتھا نکتہ: پاکستان اپنے مشکل ترین معاشی مسائل حل کر رہا ہے
پاکستان کی معاشی بحالی صرف بیرونی عوامل پر منحصر نہیں ہے، بلکہ اندرونی سطح پر بھی طویل عرصے سے جاری ساختی مسائل سے نمٹنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ دو واضح مثالیں یہ ہیں:
پہلا، پاور سیکٹر کے گردشی قرضے کے مسئلے کو حل کرنے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ لاگت کو کم کرنے اور ری فنانسنگ کے لیے 1.225 ٹریلین پاکستانی روپے کی بینکنگ سہولت کے معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔
دوسرا، 2024-2029 کے لیے نجکاری کا ایک جامع پروگرام جاری ہے۔ اس پروگرام کے فیز I میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA) کی نجکاری مکمل ہو چکی ہے، جس نے 700 ارب روپے سے زائد کے نقصانات جمع کیے تھے۔ اس اقدام سے بار بار کے بیل آؤٹ پیکیجز کا خاتمہ ہوگا اور اربوں روپے کے مالی وسائل آزاد ہوں گے۔
پانچواں نکتہ: مارکیٹ کا اصل محرک آپ کی سوچ سے زیادہ قریب ہے
یہ ایک غیر متوقع حقیقت ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی موجودہ لچک اور رفتار کی "ریڑھ کی ہڈی" صرف غیر ملکی سرمایہ کاری نہیں بلکہ مقامی سرمایہ کاری ہے۔ مقامی سرمایہ کار، خاص طور پر میوچل فنڈز، بینک، اور انشورنس کمپنیاں، مارکیٹ کی رفتار کو آگے بڑھا رہی ہیں۔
2025 میں، میوچل فنڈز نے آٹھ سالوں میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری حاصل کی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مقامی ادارے اور سرمایہ کار اپنی ہی مارکیٹ کی صلاحیت پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔ وزیر خزانہ کے حالیہ ریمارکس اس تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں، جو مقامی طور پر چلنے والے ترقیاتی ماڈل کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
جیسا کہ درست کہا گیا ہے، پائیدار ترقی گھر سے شروع ہوتی ہے، اور پاکستان کو مقامی سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور دوبارہ تعمیر کرنا ہوگا...
نتیجہ: ایک نئے باب کا آغاز؟
مجموعی طور پر، 2026 کے لیے پاکستان کا معاشی منظرنامہ تجدید شدہ استحکام، اسٹریٹجک اصلاحات، اور بڑھتے ہوئے سرمایہ کاروں کے اعتماد سے عبارت ہے۔ یہ تمام عوامل مل کر ایک ایسی تصویر پیش کرتے ہیں جو عام تاثر سے بالکل مختلف ہے اور ایک روشن مستقبل کی نشاندہی کرتی ہے۔
اس امید افزا راستے پر آگے کون سے چیلنجز باقی ہیں؟
