میرا نام میاں غلام جعفر سالار ہے۔ میں فروری 1919 میں سہارنپور میں پیدا ہوا۔ تاریخ نے مجھے ایک ایسا اعزاز بخشا جو میری زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ ہے: میں قائد اعظم محمد علی جناح کے حفاظتی دستے کا 'سالار' یعنی کمانڈر تھا۔ یہ محض ایک عہدہ نہیں تھا، بلکہ ایک مقدس امانت تھی جس نے میری زندگی کے ہر لمحے کو ایک مقصد عطا کر دیا۔
علی گڑھ کی ایک تقریر جس نے زندگی بدل دی
میرا یہ سفر 1938 میں شروع ہوا جب سہارنپور مسلم لیگ کے صدر، مولوی عرفان احمد انصاری مجھے اپنے ساتھ علی گڑھ یونیورسٹی لے گئے۔ وہاں میں نے پہلی بار قائد اعظم کو سنا۔ ان کے الفاظ محض تقریر نہیں تھے، وہ ایک قوم کی تقدیر کی تعمیر تھے۔ اس ایک تقریر نے میرے اندر پاکستان کی تحریک کے لیے وہ شعلہ روشن کر دیا جس کی تپش مجھے ہر اس جلسے، ہر اس محفل میں کھینچ لاتی جہاں قائد کی آواز گونجتی تھی۔ میں نے اسی دن اپنی زندگی اس عظیم رہنما کے نصب العین کے لیے وقف کرنے کا عہد کر لیا تھا۔ یہ میری جدوجہد کا وہ نقطہ آغاز تھا جس نے مجھے اس رہنما کی حفاظت کی عظیم ذمہ داریوں کے لیے تیار کیا، وہ رہنما جس نے مجھے میری زندگی کا مقصد دیا تھا۔
قائد کا سایہ: حفاظت اور خطرات
قائد کے سائے میں چلتے ہوئے میں نے صرف خنجروں اور گولیوں کا سامنا کرنا ہی نہیں سیکھا، بلکہ اس عظیم رہنما کی بصیرت کے خزانے اور ان کے کردار کی بلندی کو بھی قریب سے دیکھا۔ یہ وہ سبق تھے جو خطرات سے کہیں زیادہ گہرے تھے۔
لکھنؤ میں خطرے کی گھنٹی (1941)
سن 1941 میں لکھنؤ کے ایک جلسے کے دوران، میاں ممتاز دولتانہ نے مجھے ایک سنگین خطرے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ سازشی عناصر قائد کو راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ ایک سازشی کے الفاظ آج بھی میرے کانوں میں گونجتے ہیں:
"جی تھوڑے دن ہے جب قائد اعظم کو ٹھکانے لگا دیں گے پھر کوئی نہیں آئے گا۔"
اس دن کے بعد، میں قائد کا سایہ بن گیا، ہر لمحہ چوکس، ہر خطرے پر نگاہ جمائے ہوئے۔
نئی دہلی میں حملہ اور باضابطہ ذمہ داری (1942)
1942 میں نئی دہلی میں قائد اعظم کی تقریر کے بعد ان پر ایک بڑا حملہ ہوا۔ ہم نے اپنی جانوں پر کھیل کر اسے ناکام تو بنا دیا، لیکن اس واقعے نے سب پر واضح کر دیا کہ دشمن کس حد تک جا سکتا ہے۔ یہی وہ دن تھا جب مجھے باضابطہ طور پر قائد کے حفاظتی دستے کا سربراہ مقرر کیا گیا، اور یہ ذمہ داری میں نے ان کی وفات تک نبھائی۔
کلکتہ میں قربانی کا لمحہ (1946)
1946 کے انتخابات کے دوران کلکتہ کے دھرم تلا میدان میں ایک جلسے میں قائد اعظم پر پھر حملہ ہوا۔ میں نے انہیں بچانے کے لیے خود کو ڈھال بنا لیا اور اپنے سینے اور جسم پر گہرے زخم کھائے۔ مجھے آج بھی وہ لمحہ یاد ہے جب قائد اعظم ہسپتال میں مجھ سے ملنے آئے۔ انہوں نے اپنی بش شرٹ اتار کر میرے زخموں پر باندھی اور مجھے ہسپتال بھجوایا۔ بعد میں جب وہ تشریف لائے تو میرا سر اپنی گود میں رکھا اور فرمایا:
"Don't worry Salar, ye blood rang laega."
قائد کے اتنے قریب رہنے نے مجھے نہ صرف خطرات کا سامنا کرنا سکھایا، بلکہ ان کی گہری حکمت اور ذاتی کردار سے بھی روشناس کرایا۔
ایک عظیم رہنما سے زندگی کے اسباق
قائد اعظم صرف ایک سیاسی رہنما نہیں تھے، وہ ایک معلم تھے جو اپنے ساتھیوں کی کردار سازی بھی کرتے تھے۔ ان کی نصیحتیں آج بھی میرے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
- سچائی کی طاقت: وہ ہمیشہ سچائی پر زور دیتے تھے۔ انہوں نے خبردار کیا:
- خوشامد سے گریز: قائد اعظم خوشامد کو زہر قاتل سمجھتے تھے۔ وہ فرماتے تھے کہ خوشامد کرنے والے اور جس کی خوشامد کی جائے، دونوں کا کردار خراب ہوتا ہے۔ خوشامدی شخص دوسروں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے، اس لیے اس سے ہمیشہ بچو۔
- وعدے کی پاسداری: وہ وعدہ کرنے میں انتہائی احتیاط برتنے کی تلقین کرتے تھے۔ ان کا اصول تھا: "کسی بھی کام کی اپنی صلاحیت کا اندازہ لگاؤ، اور پھر اس کا صرف 50 فیصد کرنے کا وعدہ کرو تاکہ تم کبھی لوگوں کو مایوس نہ کرو اور تمہاری ساکھ کو نقصان نہ پہنچے۔"
- احترام اور شفقت: ان کی نصیحت تھی کہ بزرگوں، رہنماؤں اور افسران کا احترام کرو، جبکہ اپنے سے چھوٹوں کے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آؤ۔ ان کے الفاظ تھے، "چھوٹے پہ پیار کرو۔"
- دشمن سے برتاؤ: دشمنوں سے نمٹنے کے لیے ان کا فلسفہ سب سے منفرد تھا۔ وہ طاقت کے بجائے کردار سے جیتنے پر یقین رکھتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تم اپنے مخالف کی تعریف کرو گے اور وہ تمہاری برائی کرے گا، تو لوگ خود کہیں گے کہ "یہی بددیانت ہے۔" یوں دشمن خود اپنی نظروں میں گر جاتا ہے۔
حکمت عملی (Strategy) | قائد کا قول (The Quaid's Saying) |
زہر کی جگہ شہد | "دشمن کو... زہر سے نہیں شہد سے مارو۔" |
تلوار کی جگہ پیار | "دشمن کو تلوار سے نہیں پیار سے مارو۔" |
یہ ذاتی اور اخلاقی تعلیمات ہی ان کے اس نئے ملک کے لیے وسیع تر عوامی اور سیاسی وژن کی بنیاد تھیں۔
قائد کا ایمان اور انکساری
قائد اعظم کے کردار کی فولادی مضبوطی ان کے گہرے ایمان اور غیر معمولی انکساری میں پنہاں تھی۔
پیاسا کنویں کے پاس جاتا ہے
یہ 1943 کا واقعہ ہے۔ قائد اعظم، پیر آف زکوڑی شریف سے ملنے ان کے ہاں تشریف لے گئے۔ پیر صاحب نے عقیدت سے کہا کہ آپ نے کیوں زحمت کی، مجھے بلا لیتے۔ اس پر قائد اعظم نے جو جواب دیا، وہ ان کی عاجزی کا آئینہ دار ہے:
"پیر صاحب پیاسا کنویں پہ جاتا ہے، کنواں پیاسے کے پاس نہیں جاتا۔ پیاس مجھے تھی۔"
ایک رہنما کا یقین اور ایک پیر کی گواہی
اسی ملاقات میں قائد اعظم نے پیر صاحب سے اپنے مشن کے بارے میں رہنمائی مانگی، کیونکہ بہت سے مذہبی رہنما انہیں 'کافر' قرار دے رہے تھے۔ پیر صاحب نے انہیں تسلی دی اور فرمایا، "آپ اپنا مشن جاری رکھیں، اللہ آپ کو کامیاب کرے گا۔ یہ جو آپ کی مخالفت کرتے ہیں یہ حقیقی عالم نہیں بلکہ 'دیہاڑی دار' ہیں جو پیسے کے لیے کام کرتے ہیں۔" پھر انہوں نے ایک گہری بات کہی جس کی سچائی بعد میں ظاہر ہوئی: "لیکن کچھ لوگ آپ کے ساتھ بھی اچھے نہیں ہیں۔"
ذاتی ایمان کا مشاہدہ
میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ قائد اعظم باقاعدگی سے نماز ادا کرتے تھے۔ ان کے وضو کے لیے پانی کا لوٹا بھر کر رکھنے کے لیے ایک شخص کی مستقل ڈیوٹی تھی۔ قائد اعظم کا یہی گہرا ذاتی ایمان ان کی سیاسی اور پاکستان کے لیے ان کے وژن کی بنیاد تھا۔
ایک قوم کی تعریف: نظریہ اور نعرے
قائد اعظم کا وژن شیشے کی طرح صاف تھا۔ وہ جانتے تھے کہ وہ کس نظریے پر ایک قوم کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
سیاست کا اصل مطلب
1942 میں نئی دہلی کے جلسے میں جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کی سیاست کیا ہے، تو انہوں نے ایک ایسا جواب دیا جس نے ہماری سمت متعین کر دی:
"No my personal سیاست۔ سیاست ضابطہ حیات ہے۔ جو 30 سپارے اللہ تعالیٰ نے عطا کیے ہیں۔ وہی سیاست ہے۔ وہی صداقت ہے۔ وہی انسان کی زندگی کا عمل ہے۔"
پاکستان کا مطلب
اسی جلسے میں جب کسی نے نعرہ لگایا، "پاکستان کا مطلب کیا؟" تو انہوں نے وہ تاریخی جواب دیا جو تحریک کی روح بن گیا:
"پاکستان کا مطلب لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ"
عوام کے نعرے
قائد اعظم نے تحریک کے لیے نعرے بھی خود متعین کیے۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ میرے نام سے پہلے مسلم لیگ کا نام لیا کرو۔ ہمارے نعرے تھے:
- نعرہ تکبیر - اللہ اکبر
- مسلم لیگ زندہ باد
- پاکستان زندہ باد
ہم نے نعروں کی گونج میں ایک وطن تو بنا لیا، مگر جس ہستی نے یہ خواب دکھایا تھا، اس کی تقدیر میں ایک ایسی تاریک اور پراسرار شام لکھی جا رہی تھی جس کا میں بدنصیب چشم دید گواہ بننے والا تھا۔
آخری ایام: ایک المناک سازش
میرا دل آج بھی کہتا ہے کہ قائد کی موت طبعی نہیں تھی۔ ان کے آخری ایام شکوک و شبہات سے بھرے تھے، اور میں ہر لمحہ ان کے ساتھ تھا۔
ہسپتال میں پراسرار واقعات
کوئٹہ کے ہسپتال میں، مجھے ڈاکٹروں پر شک ہونے لگا۔ ایک انگریز ڈاکٹر نے ڈاکٹر پیارے لال کو کچھ ادویات تجویز کیں، لیکن اس نے صاف انکار کر دیا۔ تین دن بعد ایک اور ڈاکٹر نے رات کے وقت ڈاکٹر اللہ بخش کو کچھ مشورہ دیا، جسے فوراً قبول کر لیا گیا۔ اس واقعے کے فوراً بعد قائد اعظم کی صحت تیزی سے بگڑنے لگی۔
موت کا سفر
کوئٹہ سے کراچی کا وہ آخری سفر ایک جان لیوا سازش کا حصہ محسوس ہوتا تھا۔
- راستے میں ایمبولینس میں آکسیجن ختم ہو گئی۔
- کچھ دیر بعد ایمبولینس کا پٹرول بھی ختم ہو گیا۔
- ایک ٹرک ڈرائیور، محمد بخش، فرشتہ بن کر آیا۔ اس نے پٹرول دیا اور پیسے لینے سے انکار کر دیا۔ اس نے روتے ہوئے فاطمہ جناح کے پاؤں پکڑ لیے اور کہا، "اماں! ہمارا باپ ہے وہ۔"
ایک محافظ کا الزام
میں آج بھی پورے یقین سے کہتا ہوں کہ یہ سب کچھ اتفاق نہیں تھا۔ قائد اعظم کی موت امریکہ، برطانیہ اور لیاقت علی خان کی ملی بھگت سے ہوئی ایک سازش کا نتیجہ تھی۔ لیاقت علی نے امریکی امداد کا مطالبہ ٹھکرا دیا تھا، جس کے چھ دن بعد انہیں راولپنڈی میں قتل کر دیا گیا، کیونکہ سازش کرنے والوں کو ڈر تھا کہ کہیں لیاقت علی یہ راز فاش نہ کر دیں کہ قائد کو زہر دیا گیا تھا۔
قوم کے اس عظیم باپ کی وفات ایک ایسا نقصان تھا جس کا ازالہ کبھی نہیں ہو سکتا۔
نتیجہ: قائد کی لازوال میراث
ایک رہنما کی دور اندیشی
قائد اعظم کی بصیرت غیر معمولی تھی۔ ایک بار انہوں نے ایوب خان کی طرف اشارہ کر کے کہا، "This man will one time king of country" (یہ بھی کسی وقت ملک کا سربراہ ہوگا)۔ اسی طرح، 1946 میں بنگال میں انتخابی فتح کے بعد جب اخباری نمائندوں نے ان سے کہا کہ سب آپ کے ساتھ ہیں، تو انہوں نے اپنی جیب میں چٹکی بھرتے ہوئے پیر آف زکوڑی شریف کی بات کی تصدیق کی اور فرمایا، "کچھ کھوٹے سکے بھی ہیں میری جیب میں۔" یہی کھوٹے سکے بعد میں ملک کی تباہی کا سبب بنے۔
ایک نامکمل وژن
میرا ایمان ہے کہ پاکستان کا جغرافیہ گجرات تک پھیلنا تھا، اور اگر قائد اعظم کچھ عرصہ اور زندہ رہتے تو آج اس ملک کی تقدیر بالکل مختلف ہوتی۔
نئی نسل کے لیے پیغام
اگر میں قائد اعظم کے کردار اور پیغام کو آج کی نوجوان نسل کے لیے سمیٹوں تو وہ یہ تھا: اپنے ایمان کو مضبوط رکھو، "اپنی دیانتداری کو قائم رکھو،" اور دشمنوں سے نفرت اور طاقت سے نہیں، بلکہ اپنے کردار، محبت اور اخلاق سے جیتو۔ یہی اس عظیم انسان کا جوہر تھا جس کی حفاظت کا شرف مجھے حاصل ہوا۔