تعارف

بیسویں صدی کی سب سے زیادہ بااثر اور متنازع شخصیات میں سے ایک، روح اللہ خمینی ایک ایرانی اسلامی انقلابی، سیاستدان، اور مذہبی رہنما تھے جنہوں نے ایرانی بادشاہت کا خاتمہ کیا اور اسلامی جمہوریہ ایران کی بنیاد رکھی۔ ان کی شخصیت نے نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سیاست پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ ان کی کامیابی صرف ایک بادشاہت کا تختہ الٹنے میں ہی نہیں تھی، بلکہ بیسویں صدی میں سیاسی اسلام کی زبان کو بنیادی طور پر نئی شکل دینے میں تھی، جس نے مذہبی حکمرانی کا ایک طاقتور اور پائیدار نمونہ تخلیق کیا جس نے مغربی اور مشرقی، دونوں سپر پاورز کو چیلنج کیا۔ یہ سوانح حیات، فراہم کردہ ماخذی متن کی بنیاد پر، ان کی ابتدائی زندگی، فکری تشکیل، ایک انقلابی رہنما کے طور پر ان کے عروج، اور ان کی حکمرانی اور پائیدار میراث کا ایک معروضی تجزیہ پیش کرے گی۔

1. ابتدائی زندگی اور فکری تشکیل

روح اللہ خمینی کی ابتدائی زندگی اور فکری نشوونما ان کے مستقبل کے سیاسی اور مذہبی نظریات کی بنیاد رکھنے میں فیصلہ کن اہمیت رکھتی ہے۔ ان کا خاندانی پس منظر، مذہبی تعلیم، اور فلسفہ و عرفان میں گہری دلچسپی نے مل کر ایک ایسی شخصیت کو جنم دیا جس نے مذہب کو سماجی اور سیاسی زندگی کے عملی مسائل سے جوڑ دیا، اور یہی نقطہ نظر بالآخر ان کی انقلابی تحریک کا مرکزی محرک بنا۔

خمینی کے آباؤ اجداد اٹھارہویں صدی کے آخر میں اپنے آبائی وطن نیشاپور (ایران) سے ہجرت کر کے ہندوستان کی مملکتِ اودھ میں آباد ہوئے، جہاں فارسی نژاد شیعہ حکمران تھے۔ یہ خاندان بالآخر لکھنؤ کے قریب قصبے کنٹور میں مقیم ہوا۔ خمینی کے دادا، سید احمد موسوی ہندی، 1830 میں ہندوستان سے عراق کے مقدس شہر نجف کے لیے روانہ ہوئے اور پھر ایران کے شہر خمین میں آباد ہو گئے۔ اسی نسبت سے خمینی کو "ہندی" کے نام سے بھی جانا جاتا تھا، اور انہوں نے اپنی کچھ غزلوں میں یہ تخلص بھی استعمال کیا۔

24 ستمبر 1902 کو خمین میں پیدا ہونے والے روح اللہ خمینی کے والد کو 1903 میں قتل کر دیا گیا، جب وہ محض دو سال کے تھے۔ ان کی پرورش ان کی والدہ، آغا خانم، اور ان کی خالہ، صاحبہ نے کی۔ چھ سال کی عمر میں انہوں نے قرآن اور فارسی کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی اور اپنے رشتہ داروں، بشمول اپنے بڑے بھائی مرتضیٰ پسندیدہ کی زیرِ نگرانی اپنی مذہبی تعلیم کو آگے بڑھایا۔

ان کی باقاعدہ مذہبی اور فلسفیانہ تعلیم کے اہم مراحل درج ذیل ہیں:

  • اراک میں تعلیم: انہوں نے آیت اللہ عبدالکریم حائری یزدی کی شاگردی اختیار کی، جو اس وقت کے ایک ممتاز عالم تھے۔
  • قم میں منتقلی: 1921 میں، وہ اپنے استاد کے ساتھ قم کے اسلامی مدرسے میں منتقل ہو گئے، جہاں انہوں نے اسلامی قانون (شریعت) اور فقہ میں مہارت حاصل کی۔
  • فلسفہ اور عرفان میں دلچسپی: قم میں انہوں نے مرزا علی اکبر یزدی اور مرزا محمد علی شاہ آبادی جیسے اساتذہ سے فلسفہ اور عرفان (تصوف) کی تعلیم حاصل کی۔ وہ ارسطو، افلاطون، ابن سینا اور ملا صدرا جیسے فلاسفہ سے بھی گہرے متاثر تھے۔
  • ادبی اور شاعرانہ مشاغل: خمینی کو ادب اور شاعری سے بھی گہری دلچسپی تھی۔ ان کے شعری مجموعے ان کی وفات کے بعد شائع ہوئے، اور مشہور شاعر نادر نادرپور نے اس بات کی تصدیق کی کہ خمینی کو شاعری کا وسیع علم تھا۔

ان کا سیاسی شعور محض ایک ردِ عمل نہیں تھا، بلکہ ان کی گہری فلسفیانہ تربیت کا منطقی نتیجہ تھا۔ ان کا فلسفہ، خاص طور پر افلاطونی نظریات اور عرفان (تصوف) کے وحدانی تصورات، دنیا سے فرار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک خدائی منظم معاشرے پر ان کے یقین کی بنیاد بنے۔ ان کے نزدیک، ایک مثالی ریاست وہی ہو سکتی ہے جو الٰہی قوانین کے تابع ہو۔ 1942 میں لکھی گئی ان کی کتاب "کشف الاسرار" اسی فلسفے کی پہلی سیاسی تشریح تھی، جس میں انہوں نے تصوف اور حکمرانی کے امتزاج کا نظریہ پیش کرتے ہوئے پہلوی ریاست کے سیکولرازم سے براہِ راست نظریاتی تصادم کا آغاز کیا۔ انہوں نے شیخ فضل اللہ نوری جیسے علما کی تعریف کی جنہوں نے آئینی انقلاب کے دوران سیکولر قوانین کی مخالفت کی تھی۔

ان کی فکری اور علمی نشوونما نے انہیں شاہ کے خلاف ایک واضح سیاسی موقف اختیار کرنے کی راہ پر گامزن کر دیا، جس کا عملی آغاز 1960 کی دہائی میں ہوا۔

2. انقلابی سرگرمیوں کا آغاز

1960 کی دہائی کے اوائل میں ایران کا سیاسی ماحول ایک نئے اور فعال مذہبی رہنما کے ابھرنے کے لیے سازگار تھا۔ آیت اللہ سید حسین بروجردی جیسے پرانے اور خاموش علما کی وفات اور شاہ محمد رضا پہلوی کے سیکولر ایجنڈے نے ایک خلا پیدا کر دیا تھا، جسے روح اللہ خمینی نے اپنی بے باک قیادت سے پُر کیا۔

سفید انقلاب کی مخالفت

جنوری 1963 میں شاہ نے "سفید انقلاب" کے نام سے ایک چھ نکاتی اصلاحاتی پروگرام کا اعلان کیا، جس میں شامل تھے:

  1. زمین کی اصلاحات
  2. جنگلات کی قومی ملکیت
  3. سرکاری اداروں کی نجکاری
  4. خواتین کو ووٹ کا حق
  5. صنعت میں منافع کی شراکت
  6. خواندگی کی مہم

خمینی اور دیگر علما نے ان اصلاحات کو "اسلام پر حملہ" اور مغربی ثقافت کو مسلط کرنے کی کوشش قرار دیا۔ علما نے ان اصلاحات کو اپنے لیے کئی حوالوں سے خطرہ سمجھا: زمینی اصلاحات کے ذریعے ان کے معاشی اثر و رسوخ کا خاتمہ، خواتین کو ووٹ کا حق دینے جیسی تبدیلیوں سے مغربی اقدار کا فروغ، اور شاہ کی بڑھتی ہوئی امریکی قربت کے باعث ایران کا امریکی مفادات کا ایک مہرہ بن جانے کا геополитический خوف۔

اس مخالفت کا سلسلہ وار بیان کچھ یوں ہے:

  1. خمینی نے قم کے دیگر سینئر مراجع (تقلید کے ذرائع) کو اصلاحات پر ہونے والے ریفرنڈم کا بائیکاٹ کرنے پر آمادہ کیا۔
  2. 22 جنوری 1963 کو انہوں نے شاہ اور اس کے اصلاحاتی منصوبے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا۔
  3. اس کے بعد ایک منشور شائع کیا گیا جس میں شاہ پر آئین کی خلاف ورزی کرنے اور امریکہ اور اسرائیل کی تابعداری کا الزام لگایا گیا۔
  4. 3 جون 1963 کو عاشورہ کے دن، انہوں نے فیضیہ مدرسے میں ایک تاریخی تقریر کی جس میں شاہ کا موازنہ ظالم خلیفہ یزید سے کیا اور اسے "بدبخت، قابلِ رحم انسان" قرار دیا۔

اس تقریر کے دو دن بعد، 5 جون 1963 کو، خمینی کو گرفتار کر لیا گیا، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں تین روزہ فسادات پھوٹ پڑے، جسے "15 خرداد کی تحریک" کہا جاتا ہے۔ ان فسادات میں تقریباً 400 افراد ہلاک ہوئے۔

سر تسلیم خم کرنے کے قانون کی مخالفت

اکتوبر 1964 میں، خمینی نے اس قانون کی شدید مذمت کی جس کے تحت ایران میں تعینات امریکی فوجی اہلکاروں کو سفارتی استثنیٰ (diplomatic immunity) دیا گیا تھا۔ انہوں نے اسے "سر تسلیم خم کرنے" کے مترادف قرار دیا اور کہا کہ یہ ایرانی قوم کی توہین ہے۔ اس بیان کے بعد انہیں نومبر 1964 میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا اور معافی مانگنے سے انکار پر انہیں ملک بدر کر دیا گیا۔

یہ جبری جلاوطنی ان کی جدوجہد کا ایک نیا باب ثابت ہوئی، جہاں انہوں نے اپنے انقلابی نظریے کو حتمی شکل دی اور ایک عالمی نیٹ ورک قائم کیا۔

3. جلاوطنی اور نظریہ ولایت فقیہ

روح اللہ خمینی کی 14 سالہ جلاوطنی نے انہیں خاموش کرنے کی بجائے ایک غیر متنازعہ اپوزیشن لیڈر اور عالمی شخصیت بنا دیا۔ ترکی، عراق، اور فرانس میں قیام کے دوران انہوں نے نہ صرف اپنی تحریک کو منظم کیا بلکہ اپنے سب سے اہم سیاسی نظریے، "ولایت فقیہ"، کو بھی فروغ دیا جس نے مستقبل کی اسلامی جمہوریہ کی بنیاد رکھی۔

خمینی کو پہلے نومبر 1964 میں برسا، ترکی، بھیجا گیا۔ اکتوبر 1965 میں انہیں نجف، عراق، منتقل ہونے کی اجازت دی گئی، جہاں انہوں نے اپنی جلاوطنی کا بیشتر حصہ گزارا۔ 1978 میں صدام حسین کی حکومت نے انہیں عراق سے بھی نکال دیا، جس کے بعد وہ فرانس کے شہر نوفل-لو-شاتو میں مقیم ہوئے، جو انقلاب کی قیادت کا عالمی مرکز بن گیا۔

3.1. ولایت فقیہ: اسلامی حکومت کا نظریہ

نجف میں قیام کے دوران خمینی نے اسلامی حکومت پر لیکچرز کا ایک سلسلہ شروع کیا، جو بعد میں "ولایت فقیہ" (اسلامی فقیہ کی سرپرستی) کے عنوان سے کتابی شکل میں شائع ہوا۔ اس نظریے کے بنیادی نکات درج ذیل تھے:

  1. معاشرے کے تمام قوانین صرف خدا کے قوانین (شریعت) پر مبنی ہونے چاہئیں۔
  2. ملک کا حکمران ایک فقیہ (اسلامی قانون کا ماہر) ہونا چاہیے جو اسلامی قانون اور انصاف کا سب سے زیادہ علم رکھتا ہو اور انتظامی صلاحیت کا بھی مالک ہو۔
  3. بادشاہوں یا منتخب پارلیمانوں کے ذریعے حکومت کرنا اسلام کی رو سے "غلط" ہے۔
  4. یہ نظام ناانصافی، بدعنوانی، اور غیر ملکی اسلام دشمن طاقتوں کے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔

جلاوطنی کے دوران خمینی کی سیاسی حکمت عملی انتہائی ہوشیارانہ تھی۔ انہوں نے ولایت فقیہ کے بنیاد پرست مذہبی نظریے پر عوامی سطح پر زور دینے سے گریز کیا اور اس کی بجائے مستضعفین (مظلوموں) کے حقوق کی جنگ جیسے عوامی موضوعات پر توجہ مرکوز کی۔ یہ حکمت عملی اس لیے انتہائی مؤثر ثابت ہوئی کیونکہ اس نے سیکولر قوم پرستوں، بائیں بازو کے کارکنوں، اور بازاری تاجروں پر مشتمل ایک وسیع البنیاد اتحاد قائم کیا—یہ وہ تمام گروہ تھے جو ان کے حتمی مذہبی ریاست کے تصور سے شاید خوفزدہ ہو جاتے۔

امریکہ سے مبینہ رابطے

بی بی سی کی طرف سے جاری کردہ غیر مندرج امریکی دستاویزات کے مطابق، خمینی نے کینیڈی اور کارٹر انتظامیہ کو پیغامات بھیجے تھے جن میں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ وہ ایران میں امریکی مفادات، خاص طور پر تیل کی فراہمی، کے خلاف نہیں ہیں اور امریکی موجودگی کو سوویت یونین کے اثر و رسوخ کے خلاف ایک توازن سمجھتے ہیں۔ تاہم، سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر ایرانی رہنماؤں نے بعد میں ان رپورٹس کو "جعلی" قرار دے کر مسترد کر دیا۔

1970 کی دہائی کے آخر تک، خمینی کی مقبولیت ایک مسیحائی شخصیت کی حد تک پہنچ چکی تھی، اور ان کی ایران واپسی کے لیے اسٹیج تیار ہو چکا تھا۔

4. انقلاب کی قیادت اور اقتدار کا استحکام

روح اللہ خمینی کی ایران واپسی نے انہیں ایک انقلابی رہنما سے ایک نئی مذہبی ریاست کے معمار میں تبدیل کر دیا۔ یہ دور بے پناہ عوامی حمایت، ہوشیار سیاسی چالوں، اور مخالفین کے منظم خاتمے سے عبارت تھا، جس کے ذریعے انہوں نے اپنی طاقت کو مستحکم کیا۔

یکم فروری 1979 کو خمینی فاتحانہ طور پر ایران واپس آئے، جہاں لاکھوں کے مجمع نے ان کا استقبال کیا۔ جب ایک صحافی نے ان سے وطن واپسی پر ان کے احساسات کے بارے میں پوچھا تو ان کا مشہور جواب تھا: "هیچ" (کچھ نہیں)۔ ان کی آمد کے محض دس دن بعد، 11 فروری کو، فوج نے غیر جانبداری کا اعلان کر دیا اور شاہ کی مقرر کردہ حکومت گر گئی۔ خمینی نے مہدی بازرگان کو عبوری وزیر اعظم مقرر کیا اور اعلان کیا کہ ان کی حکومت کی اطاعت خدا کی اطاعت کے مترادف ہے۔ مارچ 1979 میں ہونے والے ریفرنڈم میں 98 فیصد عوام نے بادشاہت کے خاتمے اور اسلامی جمہوریہ کے قیام کے حق میں ووٹ دیا۔

4.1. آئین سازی اور یرغمالیوں کا بحران

اقتدار کو مستحکم کرنے کا عمل نئے آئین کی تشکیل کے ذریعے مکمل ہوا۔ ابتدائی مسودے کو خمینی کے حامیوں نے تبدیل کر دیا تاکہ ولایت فقیہ کے نظریے پر مبنی سپریم لیڈر کا طاقتور عہدہ اور غیر اسلامی قوانین کو ویٹو کرنے کے لیے گارڈین کونسل کو شامل کیا جا سکے۔

یرغمالیوں کا بحران محض ایک خارجہ پالیسی کا واقعہ نہیں تھا، بلکہ وہ بھٹی تھی جس میں سخت گیر مذہبی دھڑے نے اپنی داخلی برتری قائم کی۔ 4 نومبر 1979 کو، ایرانی طلبہ نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر کے 52 سفارتی اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا۔ خمینی نے اس اقدام کی حمایت کی اور امریکہ کو "شیطانِ بزرگ" قرار دیا۔ اس بحران کو "شیطانِ بزرگ" کے خلاف ایک مقدس جدوجہد کے طور پر پیش کر کے، خمینی نے وزیر اعظم بازرگان جیسے اعتدال پسند حریفوں کو سیاسی طور پر شکست دی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی شدید امریکہ مخالف قوم پرستی کی لہر کو استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا آئین منظور کروایا جس نے ان کے اپنے مطلق اختیار کو قانونی شکل دے دی۔

اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے خمینی نے منظم طریقے سے اپوزیشن کو دبایا:

  • اسلامی انقلابی عدالتیں قائم کی گئیں جنہوں نے شاہ کے دور کے سینکڑوں اہلکاروں کو سزائے موت دی۔
  • سیکولر اپوزیشن کو ختم کرنے کے لیے اسلامی جمہوری پارٹی (IRP) بنائی گئی۔
  • تمام سیکولر قوانین کو اسلامی قوانین سے بدل دیا گیا۔
  • محمد کاظم شریعتمداری جیسے مخالف علما کو غیر فعال کر دیا گیا۔
  • اپوزیشن جماعتوں اور اخبارات پر پابندی لگا دی گئی۔

اندرونی طور پر اقتدار مستحکم کرنے کے بعد، خمینی کی حکومت کو اپنے سب سے بڑے بیرونی چیلنج کا سامنا کرنا پڑا: عراق کے ساتھ ایک مکمل جنگ۔

5. دورِ حکومت: داخلی اور خارجی پالیسیاں

خمینی کا دورِ حکومت ایران-عراق کی تباہ کن جنگ اور ایک ایسی خارجہ پالیسی سے عبارت تھا جس کا مقصد انقلاب کو دنیا بھر میں برآمد کرنا اور بیک وقت مغربی اور مشرقی، دونوں سپر پاورز کا مقابلہ کرنا تھا۔

ایران-عراق جنگ (1980-1988)

ستمبر 1980 میں، عراق کے صدر صدام حسین نے ایران پر حملہ کر دیا، جس کا مقصد ایران کے تیل سے مالا مال صوبے خوزستان پر قبضہ کرنا اور ایرانی انقلاب کے پھیلاؤ کو روکنا تھا۔ یہ جنگ خمینی کے لیے اپنی قیادت کو مستحکم کرنے کا ایک ذریعہ بن گئی۔ 1982 میں جب ایرانی افواج نے عراقیوں کو پیچھے دھکیل دیا، تو خمینی نے جنگ بندی کی پیشکش مسترد کر دی اور صدام حسین کو اقتدار سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ یہ جنگ آٹھ سال تک جاری رہی اور لاکھوں جانوں اور اربوں ڈالر کے نقصان کا سبب بنی۔ آخرکار، جولائی 1988 میں، خمینی نے اقوام متحدہ کی ثالثی میں جنگ بندی کو قبول کیا، جسے انہوں نے "زہر کا پیالہ پینا" قرار دیا۔

خارجہ پالیسی اور اہم فتاویٰ

خمینی کی خارجہ پالیسی اور ان کے مشہور فتاویٰ نے عالمی سطح پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ذیل کے جدول میں ان کی اہم پالیسیوں کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے:

پالیسی/فتویٰ

تفصیل اور اثرات

مسلم اتحاد

شیعہ اور سنی مسلمانوں کو مغربی طاقتوں کے خلاف متحد کرنے پر زور دیا۔ "ہفتہ وحدت" اور "یوم القدس" کا اعلان کیا۔

انقلاب کی برآمد

اعلان کیا کہ دنیا بھر میں اسلامی ریاست کا قیام انقلاب کے عظیم مقاصد میں سے ایک ہے۔

"شیطانِ بزرگ" اور "شیطانِ کوچک"

امریکہ کو "شیطانِ بزرگ" اور سوویت یونین کو "شیطانِ کوچک" قرار دیا، جو دونوں سپر پاورز سے غیر وابستگی کی عکاسی کرتا تھا۔

کیمیائی ہتھیاروں کے خلاف فتویٰ

محسن رفیق دوست کے مطابق، انہوں نے جوہری اور کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری کے خلاف ایک فتویٰ جاری کیا۔

سلمان رشدی کے خلاف فتویٰ

1989 میں، انہوں نے مصنف سلمان رشدی کے خلاف ان کی کتاب The Satanic Verses کی وجہ سے سزائے موت کا فتویٰ جاری کیا، جس کی عالمی سطح پر شدید مذمت کی گئی۔

خمینی کی ان پالیسیوں نے جہاں ایک طرف ایران کو مسلم دنیا میں ایک نئی شناخت دی، وہیں دوسری طرف اس کے اثرات ایرانی معاشرے کی روزمرہ زندگی پر بھی مرتب ہوئے۔

6. خمینی کے زیرِ سایہ ایرانی معاشرت

خمینی کے دورِ حکومت میں ایرانی معاشرے نے گہری اور اکثر متضاد سماجی تبدیلیوں کا تجربہ کیا۔ عوامی زندگی کی ایک وسیع اسلامی کاری نافذ کی گئی، جس نے قانون اور تعلیم سے لے کر خواتین اور اقلیتوں کے حقوق تک ہر پہلو کو متاثر کیا۔

خواتین اور بچوں کے حقوق

انقلاب سے قبل خمینی نے خواتین کی سماجی شرکت کی حمایت کی تھی، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد ان کی پالیسیاں یکسر بدل گئیں۔ اہم تبدیلیاں درج ذیل تھیں:

  • 1967 کے طلاق کے قانون کو منسوخ کر دیا گیا۔
  • خواتین کے لیے حجاب کو لازمی قرار دیا گیا۔
  • لڑکیوں کی شادی کی کم از کم عمر 13 سال اور لڑکوں کی 15 سال مقرر کی گئی۔
  • کثرتِ ازدواج کی حوصلہ افزائی کی گئی۔

ایل جی بی ٹی کیو افراد سے متعلق پالیسیاں

خمینی کی حکومت نے ہم جنس پرستوں پر شدید ظلم کیا اور ہم جنس پرستی کے لیے سزائے موت نافذ کی۔ ان کے نزدیک ہم جنس پرست "قوم کے پرجیوی" تھے جنہیں ختم کرنا ضروری تھا۔ اس کے برعکس، انہوں نے 1963 کے اپنے ایک فتوے کی بنیاد پر "تشخیص شدہ خواجہ سراؤں" کے لیے جنس کی تبدیلی کی سرجری کی اجازت دی، جسے وہ ایک قابلِ علاج طبی حالت سمجھتے تھے۔

معیشت اور ہجرت

خمینی نے "روحانیت کو مادیت پر فوقیت" دینے پر زور دیا اور ایک بار کہا کہ "معاشیات گدھوں کے لیے ہے"۔ ان کے دور میں معاشی بدحالی بڑھی، پہلے 6 سالوں میں غربت میں 45 فیصد اضافہ ہوا، اور ملک کی تاریخ میں پہلی بار بڑے پیمانے پر ہجرت کا آغاز ہوا۔ انقلاب اور عراق کے ساتھ جنگ کے بعد، اندازے کے مطابق "دو سے چار ملین کاروباری افراد، پیشہ ور افراد، تکنیکی ماہرین اور ہنر مند کاریگر (اور ان کا سرمایہ)" ملک چھوڑ گئے۔

نسلی اور مذہبی اقلیتیں

  • نسلی اقلیتیں: کردوں کے خود مختاری کے مطالبات کو مسترد کر دیا گیا اور کردستان میں فوجی کریک ڈاؤن کے بعد مارشل لاء نافذ کر دیا گیا۔
  • مذہبی اقلیتیں: زرتشتیوں، یہودیوں اور عیسائیوں کو سرکاری طور پر تسلیم تو کیا گیا لیکن انہیں شدید امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا (مثلاً ان کے اسکولوں میں مسلمان پرنسپل کا تقرر)۔ اس کے برعکس، بہائی برادری کو "جاسوس" اور مرتد قرار دے کر شدید ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد کو پھانسی دی گئی۔

یہ سماجی کنٹرول ان کی زندگی کے آخری باب اور میراث کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

7. وفات، جانشینی اور میراث

روح اللہ خمینی کی وفات ایک عہد کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک منتقلی تھی، جس نے ان کی شخصیت کے گرد قائم عقیدت کو مزید مضبوط کیا لیکن ساتھ ہی جانشینی اور ان کے قائم کردہ انقلاب کے مستقبل کے بارے میں اہم سوالات بھی کھڑے کر دیے۔

وفات اور جنازہ

3 جون 1989 کو دل کے دورے کے باعث خمینی کا انتقال ہو گیا۔ ان کے جنازے میں لاکھوں افراد نے شرکت کی، جو تاریخ کے سب سے بڑے انسانی اجتماعات میں سے ایک تھا۔ سوگواروں کا ہجوم اس قدر شدید تھا کہ ان کے لکڑی کے تابوت کو توڑ دیا گیا، جس کے باعث ان کی میت زمین پر گر گئی۔ بعد ازاں، ایک اسٹیل کے تابوت میں زیادہ سخت سیکیورٹی کے تحت ان کی تدفین کی گئی۔ ایرانی حکام کے اندازے کے مطابق، 1.02 کروڑ افراد نے ان کے جنازے میں شرکت کی۔

جانشینی کا عمل

خمینی نے ابتدا میں آیت اللہ حسین علی منتظری کو اپنا جانشین نامزد کیا تھا، لیکن منتظری کی جانب سے حکومت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، خاص طور پر 1988 میں ہزاروں سیاسی قیدیوں کی پھانسی پر تنقید کے بعد، انہیں مارچ 1989 میں اس عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔ اس کے بعد آئین میں ترمیم کی گئی تاکہ سپریم لیڈر کے لیے مرجع (اعلیٰ ترین عالم) ہونے کی شرط کو ختم کیا جا سکے، جس سے علی خامنہ ای کے لیے راستہ ہموار ہوا، جنہیں 4 جون 1989 کو نیا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا۔

سیاسی میراث کا تضاد

خمینی کی میراث انتہائی پیچیدہ اور متضاد ہے۔ ان کے حامی اور ناقدین ان کی شخصیت اور دورِ حکومت کو بالکل مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں:

حامیوں کے نقطہ نظر سے میراث

ناقدین کے نقطہ نظر سے میراث

- اسلامی احیاء، نسل پرستی اور سامراجیت کے خلاف ایک چیمپئن۔

- انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ذمہ دار، بشمول ہزاروں سیاسی قیدیوں کی پھانسی۔

- مسلم اتحاد کے علمبردار اور مظلوموں (مستضعفین) کے محافظ۔

- ایران-عراق جنگ میں بچوں کو فوجی کے طور پر استعمال کرنے اور انسانی لہر حملوں کا حکم دینے والا۔

- ایران کو غیر ملکی تسلط سے آزاد کرانے اور قومی وقار بحال کرنے والے۔

- مغرب میں اسلام کے خلاف خوف اور عدم اعتماد پیدا کرنے والا اور "آیت اللہ" کو جنونیت کا مترادف بنانے والا۔

- ایک کرشماتی اور بے پناہ مقبول رہنما جس نے قوم کو متحد کیا۔

- ایک سخت گیر حکمران جس نے اختلاف رائے کو بے رحمی سے کچل دیا اور معیشت کو تباہ کیا۔

بالآخر، روح اللہ خمینی گہرے تضادات کی حامل شخصیت ہیں: ایک عوامی رہنما جس نے آمریت قائم کی، ایک صوفی جس نے بے رحم سیاسی طاقت کا استعمال کیا، اور سامراجیت مخالف ایک ایسا چیمپئن جس کا انقلاب اپنے حامیوں کے لیے مزاحمت کا استعارہ اور ناقدین کے لیے انقلابی زیادتیوں کی ایک عبرتناک مثال ہے۔ ان کا نظریہ اور ان کی قائم کردہ ریاست آج بھی عالمی سیاست کی تشکیل میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

Previous Post Next Post

Gallery

انٹرنیشنل خبریں