10جنوری 2022 کو صبح چار بجے لیور ٹرانسپلانٹ کیلئے آپریشن تھیٹر میں گئے۔ صبح سات بجے تقریبآ سرجری شروع ہوئی ۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا سر آپ کو سوئی چھبے گی پھر آپ بے ہوش ہو جائیں گے ۔ مجھے یاد ہے میں یا حی یا قیوم پڑھ رہا تھا یاحی ہی پڑھا تھا بس اتنا یاد ہے ۔ ساتھ والے آپریشن تھیٹر میں بیٹی کی سرجری آدھا گھنٹہ پہلے شروع ہوچکی تھی۔
پھر مجھے گیارہ جنوری صبح 9 بجے ہوش آیا ۔ ایک نئی زندگی شروع ہوگئی ۔ آئی سی یو میں ایک نئے جنم کی سی صورتحال تھی ۔ نرسنگ سٹاف میرے منہ کو گیلے ٹشو سے صاف کر رہے تھے، پھر مجھے دوبارہ سے چلنا سکھایا گیا، غبارے لاکر دیتے میں پھلاتا تھا اور سانس بہتر ہورہی تھی ۔شاباش ملتی تھی۔ ہونٹ بار بار تر کیئے جاتے تھی۔ کچھ دن آئی سی یو میں رہنے کے بعد میں کمرے میں شفٹ ہوگیا۔ پھر باجی کے گھر کیولری گراؤنڈ شفٹ ہوگئے۔ 18 اپریل کو ٹیسٹ ہوئے تو الحمدللہ ہم دونوں کے جگر مکمل ہوچکے تھے۔ اور 28 اپریل سے میں نے دفتر جانا شروع کردیا۔ بہت سی احتیاطی تدابیر اختیار کر لی تھیں۔ ماسک پہننا ، وقت پر دوائی کھانا۔ چار سال میں کبھی بھی الحمدللہ دوائی میں کوئی بد پرہیزی نہیں کی۔
مئی 2022 میں لاہور میں حمائل آرٹ گیلری میں فوٹوگرافی کی نمائشں کی اور لاہور کا شکریہ ادا کیا۔ اس نمائش کا افتتاح میری بڑی باجی امتیاز اور بیٹی علیزے اظہر نے کیا۔ باجی امتیاز اور انکی فیملی نے خدمت کے سارے ریکارڈ توڑ دئیے ۔ اتنی محبت اور خدمت ممکن نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر دے آمین ۔ ڈاکٹر احسان میرے سرجن اور انکی ٹیم کا بہت شکریہ۔ ڈاکٹر نجم الحسن جنہوں نے بھائیوں جیسی محبت سے خیال رکھا۔ انکا بھی دل سے شکریہ۔ مبشر بھائی ٹرانسپلانٹ کوآرڈینیٹر نے بہت خیال رکھا انکا بھی شکریہ۔ پاکستان ٹیلی ویژن سے محترم ایم ڈی عامر منظور صاحب، خاور اظہر بھائی، طارق حیات صاحب اور انکی ٹیم نے خصوصی محنت سے پاکستان ٹیلی ویژن کی طرف سے پہلے لیور ٹرانسپلانٹ کی منظوری اور خطیر رقم میرے علاج کیلئے مہیا کی۔ ان سب کا پاکستان ٹیلی ویژن کا بہت شکریہ۔
میرے بڑے بھائی محمد طارق حفیظ صاحب ، تنویر اصغر صاحب اور وسیم احمد صاحب کا بھی بہت شکریہ آپ سب کمال کے لوگ ہیں ۔
میری شریک حیات پہلے میری بیگم تھی اس دن سے وہ شریک حیات ہوگئی۔ بے انتہا محبت اور خدمت کا شکریہ۔
سارے کزنز اور بھائی جو ہر لمحہ خیال رکھتے تھے ان سب کا بے انتہا شکریہ۔
میرے دوست میاں سیف الرحمن ، میاں نوید الرحمن، عبدالزاق مرزا، حسن رشید رامے، شاہد ندیم اور وہ سب جنہوں نے دعاؤں میں شامل کیا اور مدد فرمائی سب کا شکریہ۔
باجی رضوانہ عرفان، آفتابِ افضل، فائق مغل، عبد الوارث حمید، یاسر نثار ، عثمان شاہ دین، علی فراز اور وہ سب دوست جنہوں نے خون کی 29 بوتلوں کا بندوست کیا انکی محبتوں کا شکریہ۔
میں ان سب احباب کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے اس ٹرانسپلانٹ میں ہماری مدد کی ۔
اب زندگی نئی طرح سے شروع ہوچکی تھی۔ بہت ساری چیزوں میں تبدیلی آگئی تھی۔ میں مثبت سوچنا اور کرنا شروع ہوگیا۔ زندگی میں بہت کچھ بدل گیا سفر کم کرنا شروع کردئیے۔ دفتر اور گھر یہی روٹین بن گئی۔ خوشی غمی میں شرکت بہت محدود ہوگئی۔ ایک بیرون ملک کا سفر کیا ۔ اور چار نمائشیں کی پہلی لاہور دوسری اسلام آباد تیسری ازبکستان اور چوتھی پھر اسلام آباد اسی طرح چار کتابیں لکھ کر صاحب کتب بھی ہوگیا الحمدللہ ۔ ٹیلی ویژن میں جو سفر کمپیوٹر گرافکس ڈیزائنر کے طور پر 2000 میں شروع کیا تھا الحمدللہ پچیس سال کے سفر کے بعد ڈائریکٹر تک پہنچ گیا۔ شکریہ پاکستان ٹیلی ویژن ہمیشہ ساتھ دینے کیلئے انشاء اللہ میں بھی ہمیشہ ادارے کی بھلائی کیلئے محنت کرتا رہوں گا۔ بڑی بیٹی کی شادی کردی الحمدللہ وہ اپنے گھر خوش ہے ۔
باقی زندگی شکر گزاری میں گزارنے کا فیصلہ کیا اور اس میں سے چار سال گزر گئے باقی بھی ایسے ہی گزر جائیں گے ان شاء اللہ ۔کوشش کرتا ہوں کہ اپنے سے وابستہ تمام احباب کیلئے جو بہتر ہو سکے کروں۔ اب مجھے فرق نہیں پڑتا کہ کوئی میرے لیے کیسے سوچتا ہے کیونکہ اس نئی زندگی میں میں اس پر توجہ نہیں دیتا۔
سب کا بھلا سب کی خیر۔
شکر الحمدللہ شکر الحمدللہ
بے شک میرا رب رحیم و کریم ہے ۔
آپ سب سے دعاؤں کی درخواست ہے ۔
